روایت کیا ہے ابن الباذ ش احمد بن علی بن احمد بن خلف انصاری [1] نے اقنا ع میں بہت سے سندوں کے سا تھ ذکر کیا ہے، اسی طرح اس کو شہرزوری ابوالکرم مبارک بن حسن بن احمدنے ''المصباح'' [2] میں جبکہ شمس الدین ابن جزری محمد بن محمد بن محمد
ابوالخیر دمشقی نے '' النشر'' [3] میں اور انہی کے طریق سے النشار عمر بن قاسم بن محمد بن علی انصاری نے ''البدور الزاھرۃ'' [4] میں اور ان کے علاوہ دیگر نے بھی سب سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں میں نے عکرمۃ بن سلیمان [5] سے سنا ،وہ کہہ رہے تھے میں نے اسماعیل بن عبداللہ بن قسطنطین [6] پہ قراءت کی جب میں '' والضحیٰ '' پہ پہنچا تو انہوں
[2] ابوکرم شہرزوری ، ابن جزری کہتے ہیں امام کبیر ، متقن ، محقق ، اس علم کے ایک مشہور شیخ ،ثقہ، صالح 550 ھ میں بغداد میں وفات پائی ۔ (غا یۃ النہایۃ 2/40 ) ، ( معر فۃ القراء 1/506) قلت: ابوربیع ، محمد بن اسحاق ربعی مکی ہیں۔ (مختصر) .
[3] النشر فی القراء ات العشر (2/ 415،411) ابن جزری نے بزّی والی حدیث کو چھ سے زائد طر ق کے ساتھ بیان کیا ہے.
[4] البدور الزاھرۃ فی القراء ت العشر المتواترہ ( 468) نسخہ خطیہ.
[5] عکرمۃ بن سلیمان بن کثیر بن عامر ، ابو قاسم مکی ، امام ذہبی کہتے ہیں ۔ شیخ مستور ، میں کسی کو نہیں جانتا کہ جس نے ان پہ کلام کی ہو ۔ ابن جزری کہتے ہیں دوسو ہجری سے کچھ قبل تک زندہ رہے ۔ ( معرفۃ القراء1/ 146) (غایۃ النھایۃ 1/515) .
[6] اسماعیل بن عبدللہ بن قسطنطین ابو اسحاق مخزومی مولاھم مکی ، القسط سے مشہور ہیں مقری مکہ ہیں ابن کثیرپہ قراء ت کی اور ان کے دوساتھیوں شبل بن عباد اور معروف بن مشکان ، آپ سے جن لوگوں نے پڑھا، ان میں اما م شافعی محمد بن ادریس بھی ہیں۔ 170ھ میں فوت ہوئے۔ ( معرفۃ القراء 1/114) غایۃ النہا یۃ 1/165).