الصفحة 53 من 194

تشریف لائے اور ان کا مؤذن مقرر کیا جو اذان دیتا اور ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو امامت کروائیں۔

عبدالرحمن بن خلادانصاری فرماتے ہیں۔ میں نے ان کے بوڑھے مؤذن کو دیکھا ہے۔ [1]

یہ حدیث عورتوں میں سے حفظ کرنے والی کی فضیلت پہ دلیل ہے جیسا کہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو عورت قرآن مجید کو حفظ کرے اور اس کی تجوید و قرأت میں مشغول ہو اس کے لیے مردوں کے سامنے اظہار جائز نہیں تاکہ وہ اس کی آواز نہ سن سکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پہ غور کیجیے ''اپنے گھر میں قرار پکڑو'' اور ایک روایت میں ہے '' اپنے گھر میں بیٹھی رہو'' [2]

یاد رہے قرار ِ بیوت کا یہ حکم عورتوں کے لیے عام ہے۔ جہاد کی اجازت لینے والی کے لیے خاص نہیں اور اس عموم کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ} (الاحزاب: 33)

''اپنے گھروں میں رہو۔''

ایسے ہی اس حدیث کا عموم بھی اس پہ دلالت کرتا ہے '' عورت کی گھر کی نماز اس کی مسجد کی نماز سے افضل ہے۔ '' اور اس جیسی دوسری احادیث بھی ہیں پھر یہ بھی بات ہے کہ اس حدیث میں گھر والوں کی امامت سے اس کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔ گھر کی چاردیواری سے باہر اسے امامت کی اجازت نہیں ہے۔

[2] ابن سکن نے اس کو ذکر کیا ہے دیکھے الاصابۃ:8/322۔امام سیوطی الاتقان:1/250) میں لکھتے ہیں صحابیات میں حفظ قرآن کی سعادت ان کوحاصل ہے لیکن ان کے بارہ میں کسی نے کچھ نہیں لکھا ۔ابن سعد رحمہ اللہ نے (الطبقات) میں ان کاقصہ نقل کیاہے۔میراخیال ہے شایدامام سیوطی رحمہ اللہ ابوداؤدکی روایت سے واقف نہ ہوسکے۔واللہ اعلم.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت