الصفحة 55 من 194

قرآن کی تعلیم پر اجرت لینا

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''بیشک جس چیز پر تم اجرت کے زیادہ حق دار ہو وہ اللہ کی کتاب ہے۔'' [1]

یہ حدیث تعلیم قرآن پہ اجرت کے جواز کی دلیل ہے اور شرط کے جواز پہ بھی ۔ اگرچہ حدیث کا سبب دم کرنا ہے مگر اس کا لفظ عام ہے اسی لیے جمہور اہل علم نے اس کے جواز کی دلیل پکڑی ہے۔ یہی قول عطا، حکم ، مالک ، شافع، احمد ، ابوثورکا ہے ، حسن ، ابن سیرین اور شعبی فرماتے ہیں: بغیر شرط کے مال لینے میں کوئی حرج نہیں۔

اہل علم کی ایک جماعت کا خیال منع کا ہے اور یہ قول زہری ابوحنیفہ اور اسحاق [2] کا ہے۔ احناف کا استدلال یہ ہے کہ ہر وہ طاعت جو مسلمان کے ساتھ خاص ہے اس پہ اجرت

[2] اسحاق بن راہویہ ۔ دیکھئے شرح السنۃ بغوی:8/286 المغنی ابن قدامۃ حنبلی: 8/136 طبع ترکی.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت