سے تھا۔'' [1]
۹۔ ہشیم بن بشیر السلمی رحمہ اللہ (ت ۱۸۳ھ) کے بارے ابن ندیم فرماتے ہیں: ''آپ کی کتب میں سے کتاب السنن فی الفقہ، کتاب التفسیر اور کتاب القراءات ہیں۔'' [2]
۱۰۔ عباس بن فضل انصاری رحمہ اللہ (ت ۱۸۶ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''کتاب القراءات '' ہے۔
۱۱۔ علی بن حمزہ کسائی رحمہ اللہ (ت ۱۸۹ھ) ، آپ قرائے سبعہ میں سے ہیں۔ [3]
۱۲۔ اسحاق بن یوسف ازرق رحمہ اللہ (ت ۱۹۵ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''کتاب القراءات '' ہے۔
۱۳۔ یحییٰ بن مبارک یزیدی رحمہ اللہ (ت ۲۰۲ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''کتاب القراءات '' ہے۔ [4]
۱۴۔ یحییٰ بن آدم رحمہ اللہ (ت ۲۰۳ھ) ، آپ کی بھی کتاب کا نام ''کتاب القراءات '' ہے۔
۱۵۔ یعقوب بن اسحاق الحضرمی رحمہ اللہ (ت ۲۰۵ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''الجامع'' ہے۔ آپ نے اس میں مختلف وجوہ قراءات کو قلمبند کیا ہے اور ہر وجہ کو اس کے قاری کی طرف منسوب کیا ہے۔ [5]
۱۶۔ ابو زید انصاری نحوی رحمہ اللہ (ت ۲۱۵ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''قراء ۃِ أبی عمرو بن العلاء'' ہے۔
۱۷۔ ابو ذہل احمد بن ابو ذہل کوفی رحمہ اللہ ، آپ نے امام کسائی رحمہ اللہ کی قراء ت کو روایت کیا ہے ان کی کتاب کا نام '' قرائۃ أبی عمرو بن العلاء'' ہے۔
۱۸۔ مغیرہ بن شعیب تمیمی رحمہ اللہ ، آپ نے امام کسائی رحمہ اللہ سے چند حروف روایت کیے ہیں، ان کی کتاب کا نام '' قراء ۃ الکسائی '' ہے۔
[2] الفہرست: ۲۸۴.
[3] روضات الجنات: ۴۷۲.
[4] الفہرست: ۲۸.
[5] أنباء الرواۃ: ۴/۴۵.