الصفحة 32 من 135

سے تھا۔'' [1]

۹۔ ہشیم بن بشیر السلمی رحمہ اللہ (ت ۱۸۳ھ) کے بارے ابن ندیم فرماتے ہیں: ''آپ کی کتب میں سے کتاب السنن فی الفقہ، کتاب التفسیر اور کتاب القراءات ہیں۔'' [2]

۱۰۔ عباس بن فضل انصاری رحمہ اللہ (ت ۱۸۶ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''کتاب القراءات '' ہے۔

۱۱۔ علی بن حمزہ کسائی رحمہ اللہ (ت ۱۸۹ھ) ، آپ قرائے سبعہ میں سے ہیں۔ [3]

۱۲۔ اسحاق بن یوسف ازرق رحمہ اللہ (ت ۱۹۵ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''کتاب القراءات '' ہے۔

۱۳۔ یحییٰ بن مبارک یزیدی رحمہ اللہ (ت ۲۰۲ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''کتاب القراءات '' ہے۔ [4]

۱۴۔ یحییٰ بن آدم رحمہ اللہ (ت ۲۰۳ھ) ، آپ کی بھی کتاب کا نام ''کتاب القراءات '' ہے۔

۱۵۔ یعقوب بن اسحاق الحضرمی رحمہ اللہ (ت ۲۰۵ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''الجامع'' ہے۔ آپ نے اس میں مختلف وجوہ قراءات کو قلمبند کیا ہے اور ہر وجہ کو اس کے قاری کی طرف منسوب کیا ہے۔ [5]

۱۶۔ ابو زید انصاری نحوی رحمہ اللہ (ت ۲۱۵ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''قراء ۃِ أبی عمرو بن العلاء'' ہے۔

۱۷۔ ابو ذہل احمد بن ابو ذہل کوفی رحمہ اللہ ، آپ نے امام کسائی رحمہ اللہ کی قراء ت کو روایت کیا ہے ان کی کتاب کا نام '' قرائۃ أبی عمرو بن العلاء'' ہے۔

۱۸۔ مغیرہ بن شعیب تمیمی رحمہ اللہ ، آپ نے امام کسائی رحمہ اللہ سے چند حروف روایت کیے ہیں، ان کی کتاب کا نام '' قراء ۃ الکسائی '' ہے۔

[2] الفہرست: ۲۸۴.

[3] روضات الجنات: ۴۷۲.

[4] الفہرست: ۲۸.

[5] أنباء الرواۃ: ۴/۴۵.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت