''الإبانۃ'' میں مرقوم ہے کہ امام ابن جبیر رحمہ اللہ نے، امام ابن مجاہد رحمہ اللہ ، سے پہلے قراءات پر ایک کتاب لکھی اور اس کا نام ''کتاب الثمانیۃ'' رکھا۔ اس میں انہوں نے قرائے سبعہ کے ساتھ امام یعقوب حضرمی رحمہ اللہ کو شامل کیا ہے۔ [1]
۳۵۔ عبدالوہاب بن فلیح مکی رحمہ اللہ (ت ۲۷۳ھ) ، آپ کی ''کتاب حروف المکیین'' ہے ۔ [2]
۳۶۔ عبداللہ بن مسلم رحمہ اللہ ، ابن قتیبہ (ت ۲۷۶ھ)
۳۷۔ قاضی اسماعیل بن اسحاق المالکی رحمہ اللہ (ت ۲۸۲ھ) ، علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ ''النشر'' میں فرماتے ہیں کہ آپ نے بیس قراء کرام کی قراءات پر ایک کتاب لکھی، ان میں قرائے سبعہ بھی شامل تھے۔ [3]
۳۸۔ فضل بن شاذان رحمہ اللہ (ت حدود ۲۹۰ ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''کتاب القراءات '' ہے۔
۳۹۔ احمد بن یحییٰ ثعلب نحوی رحمہ اللہ (ت ۲۹۱ھ) ۔
۴۰۔ ہارون بن موسیٰ بن شریک تغلبی رحمہ اللہ (ت ۲۹۲ھ) ، آپ نے قراءات اور عربیت پر کثیر تعداد میں کتب لکھیں۔ [4]
۴۱۔ محمد بن اسحاق ربعی مکی المعروف بأبی ربیعۃ رحمہ اللہ (ت ۲۹۴ھ) ، آپ نے بزی اور قنبل کی ابن کثیر سے دونوں روایتوں پر ایک کتاب لکھی ہے۔ جیسا کہ ''غایۃ النہایۃ'' میں مذکور ہے۔ [5]
۴۲۔ ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ (ت ۳۱۰ھ) ، علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ ''النشر'' [6] میں
[2] غایۃ النہایۃ: ۲/۲۲۲.
[3] النشر: ۱/۳۴.
[4] غایۃ النہایۃ: ۲/۳۴۷.
[5] غایۃ النہایۃ: ۲/ ۹۹.
[6] النشر: ۱/۳۴.