الصفحة 35 من 135

''الإبانۃ'' میں مرقوم ہے کہ امام ابن جبیر رحمہ اللہ نے، امام ابن مجاہد رحمہ اللہ ، سے پہلے قراءات پر ایک کتاب لکھی اور اس کا نام ''کتاب الثمانیۃ'' رکھا۔ اس میں انہوں نے قرائے سبعہ کے ساتھ امام یعقوب حضرمی رحمہ اللہ کو شامل کیا ہے۔ [1]

۳۵۔ عبدالوہاب بن فلیح مکی رحمہ اللہ (ت ۲۷۳ھ) ، آپ کی ''کتاب حروف المکیین'' ہے ۔ [2]

۳۶۔ عبداللہ بن مسلم رحمہ اللہ ، ابن قتیبہ (ت ۲۷۶ھ)

۳۷۔ قاضی اسماعیل بن اسحاق المالکی رحمہ اللہ (ت ۲۸۲ھ) ، علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ ''النشر'' میں فرماتے ہیں کہ آپ نے بیس قراء کرام کی قراءات پر ایک کتاب لکھی، ان میں قرائے سبعہ بھی شامل تھے۔ [3]

۳۸۔ فضل بن شاذان رحمہ اللہ (ت حدود ۲۹۰ ھ) ، آپ کی کتاب کا نام ''کتاب القراءات '' ہے۔

۳۹۔ احمد بن یحییٰ ثعلب نحوی رحمہ اللہ (ت ۲۹۱ھ) ۔

۴۰۔ ہارون بن موسیٰ بن شریک تغلبی رحمہ اللہ (ت ۲۹۲ھ) ، آپ نے قراءات اور عربیت پر کثیر تعداد میں کتب لکھیں۔ [4]

۴۱۔ محمد بن اسحاق ربعی مکی المعروف بأبی ربیعۃ رحمہ اللہ (ت ۲۹۴ھ) ، آپ نے بزی اور قنبل کی ابن کثیر سے دونوں روایتوں پر ایک کتاب لکھی ہے۔ جیسا کہ ''غایۃ النہایۃ'' میں مذکور ہے۔ [5]

۴۲۔ ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ (ت ۳۱۰ھ) ، علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ ''النشر'' [6] میں

[2] غایۃ النہایۃ: ۲/۲۲۲.

[3] النشر: ۱/۳۴.

[4] غایۃ النہایۃ: ۲/۳۴۷.

[5] غایۃ النہایۃ: ۲/ ۹۹.

[6] النشر: ۱/۳۴.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت