الصفحة 66 من 135

(( اَلْقُرْآنُ وَالْقِرَآئَ اتُ حَقِیْقَتَانِ مُتَغَایِرَ تَانِ، فَالْقُرْآنُ: ہُوَ الْوَحْیُ الْمُنَزَّلُ عَلٰی مُحَمَّدٍ صلي اللّٰه عليه وسلم لِلْبِیَانِ وَالْاِعْجَازِ، وَالْقِرَآئَ اتُ: اِخْتِلَافُ أَلْفَاظِ الْوَحْیِ الْمَذْکُوْرِ فِیْ الْحُرُوْفِ وَکَیْفِیَّتِھَا مِنْ تَخْفِیْفٍ وَتَشْدِیْدٍ وَغَیْرِھِمَا ) ) [1]

''قرآن اور قراءات دو متغایر حقیقتیں ہیں، قرآن مجید سے مراد، بیان و اعجاز کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی ہے، جبکہ قراءات سے مراد، الفاظ وحی کا وہ اختلاف ہے، جو حروف اور تحفیف و تشدید وغیرہ جیسی ان کی کیفیت میں مذکور ہے۔

امام قسطلانی رحمہ اللہ نے بھی اپنی کتاب ''لطائف الإشارات'' میں اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔ [2]

معاصرین میں سے ڈاکٹر صبحی صالح [3] ، سید ابو القاسم خوئی [4] اور ابراہیم ابیاری [5] کا بھی یہی موقف ہے۔

۲۔ قراءات متواترہ، عین قرآن ہیں:

یعنی ہر وہ قراء ت جس میں قراءات صحیحہ کی شرائط (صحت سند، موافقت عربیت اور موافقت رسم) پائی جائیں وہ عین قرآن ہے۔ اور جس میں ایک بھی شرط مفقود ہو، وہ فقط قراء ت ہے۔

یہ جمہور اہل علم اور مقرئین کی رائے ہے۔

۳۔ ہر قراء ت قرآن ہے، خواہ وہ شاذہ ہی ہو۔

یہ امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ کی رائے ہے۔

[2] لطائف الاشارات: ۱/۱۷۱.

[3] دیکھیں: ان کی کتاب '' مباحث فی علوم القرآن''.

[4] دیکھیں ان کی کتاب '' البیان فی تفسیر القرآن''.

[5] دیکھیں: ''الموسوعۃ القرآنیۃ، المجلد الأول''.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت