۴۔ کلمہ کے حروف کا ایسا اختلاف کہ جس میں صورت بدل جائے اور معنی باقی رہے: جیسے {کَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ } [1] کو {کالصوف الْمَنْفُوْشِ } بھی پڑھا گیا ہے اور {وَّ زَادَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْطَۃً} [2] میں لفظ {بَصْطَۃً} کو سین اور صاد دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔
۵۔ کلمہ کے حروف کا ایسا اختلاف کہ جس میں معنی اور صورت دونوں بدل جائیں: جیسے {وَطَلْعٍ مَّنْضُودٍ} [3] کو {وَطَلْحٍ} عین اور حاء دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔
۶۔ تقدیم و تاخیر کا اختلاف: جیسے {وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ} [4] کو {سَکْرَۃُ الْحَقِّ بِالْمَوْتِ} بھی پڑھا گیا ہے۔ اسی طرح {فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ} [5] کو {فَاَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ} بھی پڑھا گیا ہے۔
۷۔ زیادت و نقصان کا اختلاف: جیسے {وَمَا عَمِلَتْ اَیْدِیْہِمْ} [6] کو {وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْہِمْ} بھی پڑھا گیا ہے، اسی طرح {اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ} [7] کو {اِنَّ اللّٰہَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ} بھی پڑھا گیا ہے۔ [8]
علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ أصول قراء ت کے اختلاف کو پہلی وجہ کے ساتھ ملحق کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
''اظہار، ادغام، روم، اشمام، تفخیم، ترقیق، مد، قصر، امالہ، فتحہ، تحقیق، تسہیل، ابدال
[2] الأعراف: ۶۹.
[3] الواقعۃ: ۲۹.
[4] ق: ۱۹.
[5] النحل: ۱۱۲.
[6] یٰسٓ: ۳۵.
[7] لقمان: ۲۶.
[8] دیکھیں: تأویل مشکل القرآن: ۲۸، ۲۹۔ فضائل القرآن لأبی کشمیر: ۳۸ (اس میں انہوں نے امام باقلانی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے) ۔ النشر: ۱/۲۶، ۲۷ (اس میں انہوں نے امام باقلانی رحمہ اللہ ، امام ابن قتیبہ رحمہ اللہ اور امام رازی رحمہ اللہ تینوں کی وجوہ کو نقل کیا ہے) ۔ القراءات واللہجات: ۱۳، ۲۰، (اس میں انہوں نے تمام وجوہ نقل کرکے ان کا مقارنہ کیا ہے) .