الصفحة 25 من 129

(ت ۴۵ھ) ، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (ت۷۳ھ) ، سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ (ت ۵۸ھ) اور سیدنا عبد الرحمن بن حارث بن ھشام رضی اللہ عنہ (ت ۴۳ھ) کو حکم دیا کہ وہ ان صحف کو مصاحف میں نقل کردیں اور تین قریشی صحابہ (یعنی آخری تین سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے علاوہ) کو حکم دیا کہ جب کسی شے میں تمہارا اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا اختلاف ہو جائے تو اسے لغت قریش میں لکھو، کیونکہ قرآن مجیداسی لغت میں نازل ہوا ہے۔ [1] چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جب تمام صحف مصاحف میں نقل ہو گئے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ صحف سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس لوٹا دئیے، اور ہر طرف ایک ایک مصحف روانہ کر دیا اور حکم دے دیا کہ ان سرکاری مصاحف کے علاوہ تمام ذاتی صحیفے اور مصاحف جلا دئیے جائیں۔ '' [2]

۲۔ معلمین قرآن کا اختلاف:

قرآن مجید کی تعلیم دینے والے معلم قراء کرام بچوں کو ان حروف (یعنی لہجات و قراء ات ) کے مطابق تعلیم دیتے تھے، جو انہوں نے خود سیکھے ہوئے تھے، چنانچہ مختلف روایات میں

[2] بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن۔ ترمذی، أبواب التفسیر: ۴/۳۴۷، ۳۴۸۔ شرح السنۃ للبغوی: ۴/۵۱۹۔ فضائل القرآن لابن کثیر: ۳۰۔ المصاحف: ۱/۲۰۴.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت