فهرس الكتاب
ہوتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے وحی کا اور موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے طور پہاڑ پر آنے کا وعدہ کیا۔ [1]
(ب) حذف اختصار:
جیسے جمع مذکر سالم اور جمع مؤنث سالم کے الف کا حذف ہے۔
جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ } (المائدہ:۴۱)
{ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ …… } (الاحزاب:۳۵)
ان تمام کلمات میں الف محذوف ہے۔
(ج) حذف اقتصار:
جو بعض کلمات کو چھوڑ کر بعض کے ساتھ خاص ہے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَلَوْ تَوَاعَدْتُمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيعَادِ } (الأنفال:۴۲)
اس آیت مبارکہ میں لفظ { اَلْمِيعَادِ } میں عین کے بعد الف محذوف ہے۔
۲۔ زیادت
جیسے: { أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ } (النمل:۲۱) یہاں الف زیادہ ہے۔
{ أُولُو الْأَلْبَابِ } (ص:۲۹) یہاں واؤ زیادہ ہے۔
{ وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ } (الذاریات:۴۷) یہاں یاء زیادہ ہے۔
۳۔ بدل:
یعنی ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف لکھ دینا مثلًا الف کی جگہ واؤ لکھنا۔ جیسے (( الصلوۃ، الزکوۃ، الحیوۃ ) )