الصفحة 50 من 129

ہوتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے وحی کا اور موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے طور پہاڑ پر آنے کا وعدہ کیا۔ [1]

(ب) حذف اختصار:

جیسے جمع مذکر سالم اور جمع مؤنث سالم کے الف کا حذف ہے۔

جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ } (المائدہ:۴۱)

{ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ …… } (الاحزاب:۳۵)

ان تمام کلمات میں الف محذوف ہے۔

(ج) حذف اقتصار:

جو بعض کلمات کو چھوڑ کر بعض کے ساتھ خاص ہے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَلَوْ تَوَاعَدْتُمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيعَادِ } (الأنفال:۴۲)

اس آیت مبارکہ میں لفظ { اَلْمِيعَادِ } میں عین کے بعد الف محذوف ہے۔

۲۔ زیادت

جیسے: { أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ } (النمل:۲۱) یہاں الف زیادہ ہے۔

{ أُولُو الْأَلْبَابِ } (ص:۲۹) یہاں واؤ زیادہ ہے۔

{ وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ } (الذاریات:۴۷) یہاں یاء زیادہ ہے۔

۳۔ بدل:

یعنی ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف لکھ دینا مثلًا الف کی جگہ واؤ لکھنا۔ جیسے (( الصلوۃ، الزکوۃ، الحیوۃ ) )

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت