فهرس الكتاب
بعض کلمات ان عمومی قواعد سے مستثنیٰ ہیں جو مخصوص رسم پر لکھے جاتے ہیں جیسے: {رء یا} (مریم:۷۴) اس کلمہ کو ایک یاء سے لکھا گیا ہے اور ہمزہ کی صورت کو حذف کر دیا گیا ہے تاکہ اجتماع مثلین نہ ہو۔ [1]
اسی طرح لفظ {تُؤی} اور {تُؤیہ} کو ایک واؤ سے، اور لفظ {الرء یا} کو بحذف واؤ سے لکھا گیا ہے۔
ان مستثنیٰ کلمات کے رسم میں متعدد أسرا و رموز ہیں، جن میں سے بعض سے ہم واقف ہو چکے ہیں اور بعض سے ابھی تک ناواقف ہیں۔ [2]
۶۔ وہ کلمہ جس میں دو قراء ات ہوں اور اسے ایک کے مطابق لکھا گیا ہو۔
اس کی مثالیں:
{ وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ } (البقرۃ:۱۳۲)
اہل مدینہ اور اہل شام کے مصاحف میں {وأوصی} اور باقی مصاحف میں { وَوَصَّى } مرسوم ہے تاکہ ہر شہر کی قراءت کے موافق ہو جائے۔
{ وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ } (آل عمران:۱۳۳)
اہل مدینہ اور اہل شام کے مصاحف میں {سارعوا} بدون واؤ، جبکہ باقی مصاحف میں { وَسَارِعُوا } واؤ کے ساتھ مرسوم ہے۔ تاکہ ہر شہر کی قراءت کے موافق ہو جائے۔ (اس کی متعدد مثالیں پہلے گذر چکی ہیں۔)
[2] المقنع: ۳۳،۴۳، ۶۱۔ الاتقان: ۲۱۲۔ سمیر الطالبین: ۷۶۔ وما بعدھا.