فهرس الكتاب
قواعد رسم عثمانی کے أسرار و رموز
(أ) زیادت:
اس قاعدے کی مثالیں درج ذیل ہیں:
۱۔ {مائۃ} میں الف کی زیادتی اس کلمہ اور {منہ} کے درمیان فرق کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ کیونکہ اس دور میں مصاحف نقاط و حرکات سے خالی تھے۔ اور {مائتین} کو اس کے ساتھ ملحق کر دیا گیا ہے۔ یہ دونوں کلمات جہاں بھی آئیں زیادتی الف سے لکھے جائیں گے۔
۲۔ {أولی} میں واؤ کی زیادتی اس کلمہ اور {اِلی} حرف جارہ کے درمیان فرق کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ اسی طرح {أولئک} میں واؤ کی زیادتی اس کلمہ اور {اِلیک} میں فرق کرنے کے لیے کی گئی ہے اور دیگر کلمات {اولوا، اولات، اولائکم} کو اس کے ساتھ ملحق کر دیا گیا ہے۔ [1]
۳۔ { وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ } (الذاریات:۴۷) کے لفظ { بِأَيْدٍ } میں یاء کی زیادتی اس کلمہ اور {الأید} بمعنی قوت میں فرق کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ [2]
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { بِأَيْدٍ } قوت و قدرت کے معنی میں ہے۔ [3]
اہل علم کا اس امر میں اختلاف ہے کہ لفظ { بِأَيْدٍ } میں پہلی یاء زائدہ ہے یا دوسری یاء زائدہ ہے؟
[2] البرھان:۱/۳۸۷.
[3] القرطبی: ۱۷/۵۲.