فهرس الكتاب
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَزَاوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ } (الکہف:۱۷)
اس آیت مبارکہ کے لفظ {تزور} میں تین قراء ات ہیں:
۱۔ {تَزْوَرُّ} زاء کے سکون، راء کی تشدید اور بدون الف، یہ ابن عامر اور یعقوب کی قراءت ہے۔
۲۔ {تَزَاوَرُ} زاء مخففہ کے فتحہ، راء کی تخفیف اور زاء کے بعد الف سے۔ یہ کوفیوں کی قراءت ہے۔
۳۔ {تَزَّاوَرُ} زاء مشددہ کے فتحہ، راء کی تخفیف اور زاء کے بعد الف سے۔ یہ باقی قراء کی قراءت ہے۔
چنانچہ اس کلمہ کو {تزور} بحذف الف لکھا گیا ہے تاکہ تینوں قراء ات پڑھی جا سکیں۔ جس طرح { مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ } سے دونوں قراء ات پڑھی جاتی ہے۔ [1]
۲۔ حذف واؤ:
(أ) وہ کلمات جن میں ضمہ پر اکتفاء کرتے ہوئے واؤ کو حذف کیا گیا ہے، اور یہ کل چار افعال ہیں۔
۱۔ { وَيَدْعُ الْإِنْسَانُ بِالشَّرِّ ....} (الاسراء:۱۱) یہاں لفظ {یَدْعُ} کی واؤ محذوفہ ہے۔ اس کی اصل {یدعو} ہے۔
۲۔ { وَيَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ } (الشوری:۲۴) یہاں { وَيَمْحُ } کی واؤ حذف ہے۔ اس کی اصل {ویمحو} ہے۔
۳۔ { يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ .... } (القمر:۶) یہاں { يَدْعُ } کی واؤ محذوف ہے۔ اس کی اصل {یدعو} ہے۔
۴۔ { سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ } (العلق:۱۸) یہاں { سَنَدْعُ } کی واؤ محذوف ہے۔ اس کی