فهرس الكتاب
حسین و جمیل کام کیا ہے۔ میں ان میں کچھ لحن دیکھتا ہوں، عنقریب عرب اسے اپنی زبان دانی سے درست کر لیں گے۔''
(( عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ لَحْنِ الْقُرْآنِ: ''إِنَّ ھٰذٰنِ لَسٰحِرٰن'' [1] ''وَالْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوۃَ وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّکوٰۃَ'' [2] ، ''وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالصَّبِؤنَ'' [3] ، فَقَالَتْ: یَا ابْنَ أُخْتِیْ! ھٰذَا عَمَلُ الْکُتَّابِ أَخْطَائُ وْا فِیْ الْکِتَابَۃِ [4] ) )
''ھشام بن عروہ رحمہ اللہ سے مروی ہے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے قرآن مجید کی ان آیات {ان ھذن لسحرن} ، {والمقیمین الصلوۃ} اور {والذین ھادوا والصابؤن} میں لحن کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: اے بھانجے! یہ کاتبوں کا کیا دھرا ہے، انہوں
[2] (النساء:۱۶۲) ، اہل علم فرماتے ہیں کہ {المقیمین} منصوب علی المدح ہے۔ (التبیان فی اعراب القران: ۱/۴۰۷) .
[3] (المائدہ: ۶۹) ، اس میں {والصابؤن} مرفوع علی الابتداء ہے۔ جس کی خبر مخذوف ہے۔ (الاتحاف:۱/۵۴۱) .
[4] طبری:۱/۱۸، المقنع: ۱۲۳، فضائل القرآن: ۲۲۹، قرطبی: ۶/۱۴۔الاتقان: ۱/۴۹۵۔ الدرالمنثور:۲/۷۴۴.