پٹخ پٹخ کر مار رہی ہیں؟
یہ مسلمان کیوں سستی کا شکار ہوئے کہ قافلے میں سب سے پیچھے ہیں؟
ایک اعرابی سے پوچھا گیا: ''تمھیں کیا پسند ہے؟ اللہ تعالیٰ سے ظالم بن کر ملنا چاہو گے یا مظلوم؟'' اس نے جواب دیا: '' میں ظالم بن کر ملنا پسند کروں گا۔''
پوچھا گیا: ''تیرا برا ہو، کیوں؟ ''
اعرابی: ''اس وقت میرا کیا عذر ہو گا جب اللہ تعالیٰ کہے گا: میں نے تجھے مضبوط اور طاقتور پیدا کیا تھا تو تو کیوں مضبوط اور سخت نہ ہوا؟'' گویا اس اعرابی کا اس آیتِ کریمہ کی طرف اشارہ تھا:
{ إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا}
''جن لوگوں کی اس حالت میں فرشتے جان قبض کرتے ہیں کہ وہ (جان بوجھ کر کافروں میں رہ کر) اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہوں ، تو فرشتے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں: ہم زمین میں کمزور تھے۔ تب فرشتے کہتے ہیں: کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے؟ چنانچہ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔'' [1]
کیا آج ایسے بہادر آدمیوں کی اولاد ان یہودیوں کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گئی ہے جنھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: