فهرس الكتاب
سے مروی ہے:
قال اخبرنا محمد بن عمر بن واقد الاسلمی قال حدثنی علی بن یزید بن عبداللّٰه بن وھب بن زمعۃ عن ابیہ عمن عمتہ قالت کنا نسمع ان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم لما حملت بہ آمنۃ بنت وھب……
ابن سعد اپنے استاذ محمد بن عمر واقدی سے وہ علی بن یزید بن عبداللہ بن وھب بن زمعہ سے وہ اپنے والد سے اور وہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمنہ بنت وھب کے پیٹ میں تھے تو ہم نے یہ سنا تھا ……
یہاں ابن سعد کا استاذ محمد عمر واقدی ہے جو کہ مشہور کذاب راوی ہے واقدی کے بارے میں ائمہ محدثین اس طرح اظہار خیال کرتے ہیں:
قال الشافعی فی ما اسندہ البیہقی کتب الواقدی کلہا کذب و قال النسائی فی الضعفاء الکذابون المعروفون بالکذب علی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم اربعۃ الواقدی بالمدینۃ و قال ابو داؤد ما اشک انہ کان یفتعل الحدیث۔و قال بندار ما رایت اکذب منہ۔قال اسحاق بن راہویہ ھو عندی ممن یضع۔وحکی ابو العرب عن الشافعی قال کان بالمدینۃ سبع رجال یضعون الاسانید احدھم الواقدی۔و عن ابی حاتم انہ قال کان یضع و قال ابو زرعۃ الرازی و ابو بشر الدولابی والعقیلی متروک الحدیث
(تہذیب التہذیب ص366-367ج9)
امام شافعی واقدی کی ان روایات کی بابت فرماتے ہیں کہ جو امام بیہقی نے اس کی سند سے بیان کی ہیں کہ یہ سب جھوٹی ہیں،امام نسائی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے میں جو چار اشخاص مشہور ہیں ان میں سے ایک واقدی بھی ہے جو