الصفحة 70 من 111

اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

{وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ} (الحدید7)

اور جس مال میں اس نے تمہیں وارث بنایا ہے اس میں سے خرچ کرو۔

{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ} (الذاریات56)

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں۔

ہمارا سارا وجود اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے تو پھر عبادت بھی اسی عطائی وجود سے کرنی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا بایں الفاظ منقول ہے:

{رَبِّ اَعِنّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَ شکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ} (مشکوۃ باب الدعا فی التشھد فصل دوئم)

اے اللہ مجھے اپنا ذکر،شکر اور اچھی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما۔

سیدنا سلیمان علیہ السلام یہ دعا مانگتے تھے:

{رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیْنَ}

(النمل19)

اے پروردگار مجھے توفیق عنایت کر کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہو جائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔

تو عبادت محض اس کی توفیق اور عنایت ہی سے ممکن ہے۔مقرر صاحب اس بات سے آزاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ہے ہی کیا جو اس کے حضور پیش کریں ہر چیز تو اسی کی پیدا کردہ ہے باقی صرف یہ سر ہے سو اسے زمین پر رکھتے ہیں۔

قارئین کرام! بنظرِ انصاف ملاحظہ فرمائیے کہ یہ راستہ معرفت الٰہی کا ہے یا دھریت کا؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت