الصفحة 73 من 111

مگر جو مراد تم بیان کر رہے ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بیان نہیں کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

من قال لا الٰہ الا اللّٰه و کفر ما یعبد من دون اللّٰه حرم مالہ و دمہ و حسابہ علی اللّٰه (صحیح مسلم مع النووی ص 37 ج1)

جس نے اس بات کا اقرار کیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ کے علاوہ جس کی بھی عبادت کی جاتی ہے اس کا انکار کیا تو اس نے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی۔اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔

مذکورہ حدیث سے کلمہ طیبہ کی مراد ظاہر ہو رہی ہے کہ غیر اللہ کی پوجا سے انکار کی صورت میں ہی توحید مکمل ہوتی ہے اور غیر کی عبادت سے انکار اس کے وجود کو مستلزم ہے۔وگرنہ کسی ایسی چیز کی کہ جس کا عالم میں کوئی وجود ہی نہ ہو عبادت سے انکار چہ معنیٰ دارد۔اس لئے تم صوفی حضرات جو مراد لیتے ہو اس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہیں بلکہ کسی اور ذریعے سے تمہیں سمجھائی گئی ہے۔

{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا وَلَوْ شَآئَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ فَزَرْھُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ}

(الانعام112)

اور اسی طرح ہم نے شیطان سیرت انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکہ دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو۔

قال۔لولاک لما خلقت الافلاک کا یہی مفہوم ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت