الصفحة 77 من 111

امدادیہ ہی میں مذکور ہے:

ایک شخص نے بیان کیا کہ ایک بزرگ کہتے تھے کہ تمام آدمی کیا مشرک،کیا کافر،کیا مؤمن،سب کو خدا کی رسائی ہوسکتی ہے اسلام شرط نہیں ہے ارشاد فرمایا کہ یہ بزرگ باوجود کمال کے سیر اسماء میں تھے،البتہ مرتبہ حقائق میں یہ درست ہے،کیونکہ مرجع تمامی خلائق اللہ تعالی جل شانہ ہے۔ (شمائم امدادیہ:41)

قال: ''اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ''اللہ تعالی ہی ساری کائنات کو اپنے نور سے منور کرنیوالا ہے۔نور السموت والارض۔منور السموات والارض (ص:42)

اقول: ''اپنے نور سے''یہ جملہ کس قرآنی آیت کا ترجمہ ہے ؟کائنات اللہ کے نور سے بنی ہے،یہ تو صوفیاء کا مذہب ہے آ پ نے ضرور''سندھی نورنامہ''پڑھا ہوگا جس کا اثر اس تقریر میں بھی نظر آرہا ہے مذکورہ آیت میں نور ہدایت مراد ہے اور یہی معنی سلف صالحین اور مفسرین نے بیان کیا ہے۔ (دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 389ج3)

اور یہی معنی آپ کے بزرگ ابو البرکات نسفی تفسیر مدارک صفحہ 144ج3میں کرتے ہیں نیز امام بیہقی کتاب الاسماء والصفات صفحہ 61-62طبع ہند میں فرماتے ہیں:

قال الحلیمی وھو الھادی لا یعلم العباد الا ما علمہم ولا یدرکون الا ما یسرہم ادراکہ فالحواس والعقل فطرتہ و خلقہ و عطیتہ اخبرنا ابو زکریا بن ابی اسحق قال ثنا ابو الحسن الطرایفی قال ثنا عثمان الدارمی قال ثنا عبداللّٰه بن صالح عن معاویۃ بن صالح عن علی بن ابی طلحۃ عن ابن عباس رضی اللّٰه عنہما قولہ''اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ''یقول اللّٰه سبحانہ و تعالی ھادی اھل السموت والارض مثل نور مثل ھداہ من قلب المومن کما یکاد الزیت الصافی یضئی قبل ان تمسہ النار فاذا

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت