الصفحة 84 من 111

تمہارے علامہ نسفی اسی آیت کے تحت لکھتے ہیں:

انہ کان ظلوما لکونہ تارکا لاداء الا مانۃ جھولا لا خطائہ مایساعدہ مع تمکنہ منہ وھو ادائھا۔ھکذا فی الکشاف للزمخشری ص 565ج3بیروت)

انسان ظالم اس لحاظ سے ہے کہ یہ امانت ادا نہیں کرسکتا اور جاہل اس لئے کہ فرائض کی بجاآوری کی طاقت ہونے کے باوجود غلطیاں کرتا ہے۔

بلکہ قرآن مجید میں تویہ فرمایا گیا ہے:

{مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ} (الاحزاب:4)

اللہ تعالی نے کسی آدمی کے پہلو میں دودل نہیں بنائے۔

سابعًا: جگ اور مٹکے کی جو مثال دی گئی ہے اس کے مطابق تو انسان خود امانت ہے تو پھر ظلم اورجہل کہاں رہے؟

مقرر صاحب کی بیان کردہ تفسیر کے مطابق انسان شروع ہی سے ظالم اور جاہل ہے پھر جس نے امانت کو قبول کیا اور اس کے مطابق چلا تو وہ ظالم اور جاہل نہ رہا بلکہ عالم اور عادل بن گیا۔یہ تفسیر تو متذکرہ حدیث کے خلاف ہے،حقیقت یہ ہے کہ انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے،پھر جس نے امانت میں خیانت کی تو وہ ظالم کہلائے گا لہذا یہ تفسیر بالرائے غلط اور مردود ہے صحیح تفسیر وہی ہے جو سلف صالحین نے بیان کی ہے جیسا کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ سے منقول تفسیر ذکر کی گئی ہے۔

ثامنًا: فرماتے ہیں کہ انسان نے دیکھا کہ مجھ میں ظلم کا ظرف ہے جب میں اس میں عدالت ڈالوں گا تو عدالت کیوجہ سے یہ بھر جائے گا اور ظلم کا نام گم گشتہ ہوجائے گا۔ (صفحہ 45)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت