فهرس الكتاب
طرف پھیر دینا جہاں علی منہ کرے۔ (صفحہ 51)
اقول: مقرر صاحب نے یہ روایت تو پیش کر دی ہے لیکن کیا بتلا سکتے ہیں کہ یہ روایت کس کتاب میں ہے؟کس نے روایت کی ہے،اور سند کیسی ہے؟معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا خوف رخصت ہوگیا ہے جو اس قسم کی جھوٹی روایتین بیان کررہے ہوذرا ملاحظہ کریں امام ذھبی اسی روایت کے متعلق کیا فرماتے ہیں:
و قولہ انہم رووا جمیعا ان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قال:علی مع الحق یدور معہ حیث دار ولن یتفرقا حتی یردا علی الحوض۔من اعظم الکلام کذبا وجھلا فان ھذا الحدیث لم یروہ احد عن النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم لا باسناد صحیح ولا ضعیف فکیف یقال''انہم جمیعا رووا ھذا الحدیث''وھل یکون اکذب ممن یروی عن الصحابۃ والعلماء انہم رووا حدیثا،والحدیث لا یعرف عن احد منہم اصلا،بل ھذا من اظہر الکذب ولو قیل رواہ بعضہم و کان یمکن صحتہ لکان ممکنا وھو کذب قطعا علی النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم وینزہ عنہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم و ایضا فالحق لا یدور مع شخص غیر النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم ولو دار الحق مع علی حیثما دار لوجب ان یکون معصوما کالنبی صلی اللّٰه علیہ وسلم۔
اور لوگوں کا یہ کہنا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ علی حق پر ہے اور حق علی کے ساتھ ساتھ رہتا ہے تاکہ جہاں علی ہو وہاں حق رہے یہ دونوں الگ الگ نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر آکر مجھ سے ملیں گے یہ کذب اور جہالت کی انتہا ہے اس لئے کہ مذکورہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی صحیح یا ضعیف سند سے مروی نہیں ہے۔پھر یہ بات کس طرح