فهرس الكتاب
بلکہ امام ذھبی نے مذکور سند میں مجہول کہا ہے ایضًا لسان المیزان صفحہ 37ج6میں ہے:
قال العقیلی مجھول
اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ البدایۃ والنہایۃ صفحہ 182ج3میں یہ روایت لکھ کر فرماتے ہیں:
و ھذا حدیث غریب جدا من ھذا الوجہ
قال: ''اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا''رب ہمارے ساتھ ہے،تیرے ساتھ بھی اور میرے ساتھ بھی (صفحہ 55)
اقول: معیت ایک ایسی صفت ہے جس کے بارے میں ہمیں بولنے کا اختیار نہیں ہے ہاں جو کچھ سلف صالحین سے منقول ہے وہ بیان کیا جاسکتا ہے مثلا امام بیہقی مجاہد سے روایت کرتے ہیں کہ:
سالت سفیان الثوری عن قول اللّٰه عزوجل وھو معکم قال علمہ و عن الضحاک قال ھو اللّٰه عزو جل علی العرش و علمہ معکم و ھکذا عن مقاتل بن حیان (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص 304)
میں نے سفیان ثوری سے اللہ تعالی کے اس قول کی بابت پوچھا کہ''وَ ھُوَ مَعَکُمْ سے کیا مراد ہے؟فرمایا اس سے مراد اللہ کا علم ہے ضحاک فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی عرش پر مستوی ہے اور اسکا علم تیرے ساتھ ہے،اسی طرح مقاتل بن حیان کا بھی قول ہے۔
امام ترمذی اپنی سنن کے ابواب التفسیر میں سورۃ الحدید کے تحت فرماتے ہیں:
وفسر بعض اھل العلم ھذا الحدیث فقالوا انما ھبط علی علم اللّٰه وقدرتہ وسلطانہ و علم اللّٰه و قدرتہ و سلطانہ فی کل مکان وھو علی العرش کما وصف فی کتابہ۔