'' خدا پہ اور اس کے رسول پر صدق دل سے یقین رکھوو اور یہ بات کہنے سے باز آجاو کہ خدا تین ہیں۔ یہ تمھارے لیے بہت بہتر ہے یاد رکھو معبود برحق صرف تنہا اللہ تعالٰی ہیں وہ مبر اہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔''
دوسرے مقام پر فرمایا:
{إنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَىٰ أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَأْذِنُوهُ ۚ} [1]
''مومن سراسر وہی ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر سچے دل سے اعتماد کیا۔لہٰذا جب بھی کسی اجتماعی معاملے میں وہ (اہل ایمان) رسول خدا کے ساتھ اکھٹے ہوں تو اس وقت تک نہ جائیں جب تک ان سے باقاعدہ اجازت نہ حاصل کر لیں۔''
اس لیے ابتدائی درجہ میں ایمان کی تکمیل ممکن نہیں ہے جب تک اللہ کے ساتھ اس کے رسول پر ایمان نہ ہو۔ یعنی کہ اگر ایک شخص خدا پر ایمان کا دم بھرتا ہے لیکن رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتا تو محا ل ہے کہ اس کے تکمیل ایمان کو تسلیم کیا جائے یہاں تک کہ رسول گرامی پر ایمان لے آئے ۔
ایسے ہی جناب رسالت گرامی کا بھی یہی اصول رہا ہے،کہ جب کبھی کسی شخص سے ایمان کی آزمائش کرتے تو خدا اور رسول دونوں کے بارے استفسار کرتے ۔
عمر بن حکم سے روایت ہے کہتے ہیں میں رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا ۔میرے ساتھ میری باندی تھی۔ میں نے عرض کیامیرے ذمہ ایک غلام کی آزادی ہے کیا میں اس بچی کو آزاد کر سکتاہوں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا بتاو اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا آسمان میں۔ پھر آپ نے استفسار کیا میں کون ہوں؟ اس نے جوابًا کہا آپ خدا کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کردویہ مؤمنہ ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں جس طرح اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان فرض کیا ہے ایسے ہی اپنی وحی اور سنت کی اتباع بھی فرض قرار دی ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے
{رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ} [2]
''اے ہمارے رب ان میں ایک رسول مبعوث فرما جو ان پر تیری آیا ت کی تلاوت کرے ان کا تزکیہ کرے اور کتاب وحکمت کی تعلیم دے۔''
[2] البقرۃ،2:167