فهرس الكتاب

الصفحة 134 من 184

ان کے مطابق بیعت صرف اسی کی ہوتی ہے جو مکمل طور پر احکاماتِ الہٰی نافذ کرے۔ [1]

جھیمان کا کہنا ہے کہ:

"آج ہم مسلمان حکمرانوں کے بارے میں جو نظریہ رکھتے ہیں جو کہ گزشتہ دلائل سے ثابت ہوتا ہے تو وہ یہ ہے کہ: ان حکمرانوں کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ذکر کردہ وہ تمام اوصاف لاگو ہوتے ہیں جو اس فصل سے پہلے بیان ہو چکے ہیں،نیز ان کی کسی بھی مسلمان پر بیعت باقی نہیں ہے، نہ ہی ان کی اطاعت کرنا ضروری ہے، تاہم ان تمام چیزوں کے باوجود ان کی تکفیر لازم نہیں آتی، لہٰذا اگر کوئی حکمران اسلام کا دعوی کرتا ہے تو ہم اس کا یہ دعوی قبول کریں گے یہاں تک کہ کوئی بات اس دعوے کو توڑنے کے لیے ثابت ہو جائے تو پھر ہم اس پر کفر کا حکم لاگو کریں گے، البتہ ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ اگر آج انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا جاتا ہے تو یہ دینِ الہٰی کو منہدم کرنے کے مترادف ہے" [2]

جھیمان نے یہ بھی کہا ہے کہ:

"ہمارے حکومت سے تعلق کے متعلق وضاحت یہ ہے کہ: ہمیں ایسی احادیث ملی ہیں جو ہمیں ایسی حکومت سے الگ تھلگ رہ کر اپنے آپ پر توجہ کرنے کا حکم دیتی ہیں" [3]

اس کے بعد پھر کہا:

"اس کے بعد ہم نے حکومتی ملازمین، حکومتی چیلوں اور کارندوں سے اپنا راستہ"

[2] دیکھیں:"الإمارة والبيعة والطاعة وكشف تلبيس الحكام على طلبة العلم والعوام"صفحہ: 28

[3] دیکھیں: رسالہ"دعوة الإخوان كيف بدأت؟ وإلى أين تسير؟"صفحہ:5۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت