فهرس الكتاب

الصفحة 103 من 328

ایک غیر منطقی اور غیر معقول قول ہے۔ اور اس طرح کی واہیات بات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کہہ ہی نہیں سکتے ہیں کیوں کہ یہ بات قرآن کی تعلیمات کے عین خلاف ہے۔ قرآن نے جہاں جہاں واجبات و فرائض کے سلسلے میں مسلمانوں کومخاطب کیا ہے وہاں مرد وعورت دونوں یکساں طور پر مخاطب ہیں۔ اسی طرح جزاو سزا کے معاملے میں بھی عورت مرددونوں برابر ہیں۔ نماز پڑھنے کا حکم دونوں کے لیے یکساں طور پر ہے اور نماز نہ پڑھنے کی صورت میں دونوں کو ایک جیسی سزا اور پڑھنے کی صورت میں ایک جیسا انعام ملے گا۔

اسی طرح کی ایک من گھڑت اور بے بنیاد بات یہ ہے کہ عورت کی آواز پردہ ہے اور یہ جائز نہیں ہے کہ شوہر اور محرم کے علاوہ کوئی دوسرا اس کی آواز سنے۔ اور یہ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر اور محرم کے علاوہ کسی اور کے ساتھ بات کرے کیوں کہ اس کی آواز پردہ ہے اس طرح کی بے بنیاد بات کرنے والوں سے میں نے اس کی دلیل پوچھی تو وہ کوئی دلیل نہیں پیش کر سکے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ قرآن و حدیث میں اس کے برعکس بات کہی گئی ہے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے پردہ کی اوٹ میں بات کر سکتے ہیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں پردے کی اوٹ میں رہ کر غیر محرموں سے بات کرتی تھیں اور انھیں مفید مشورے دیتی تھیں۔ مسائل کا حل بتاتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنائی تھیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں بلا کسی رکاوٹ کے مردوں کی موجودگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ان سے مسائل دریافت کرتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم انھیں بڑے اطمینان سے جواب دیتے تھے اور کبھی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس بات پر نہیں ٹوکا کہ تم مردوں کی موجودگی میں آکر کیوں باتیں کرتی ہو؟ خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی عورتوں کی آواز کو پردہ نہیں تصور کیا جاتا تھا چنانچہ مشہور واقعہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر پر

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت