خطبہ دے رہے تھے۔ دوران خطبہ کسی عورت نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کسی بات پر بھری مجلس میں ٹوکا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےاپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا۔ اور کسی کے ذہن میں یہ بات نہیں آئی کہ اس عورت نے بھری مجلس میں بات کیوں کی۔ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عورت کی آواز کو پردہ نہیں تصور کرتے تھے۔
سورہ قصص میں اللہ تعالیٰ نے ایک واقعہ کا تذکرہ کیا ہے۔ واقعہ کے درمیان اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کسی بزرگ (غالبًا نبی) کی دو بیٹیوں سے بات کی اور پانی بھرنے میں ان کی مدد کی اور ان کے ساتھ چل کر ان کے گھر بھی گئے اگر عورت کی آواز پردہ ہوتی تو موسیٰ علیہ السلام کبھی ان لڑکیوں سے باتیں نہیں کرتے اور نہ ان بزرگ کی بیٹیاں ان سے بات کرنے کو پسند کرتیں ۔
حق بات یہ ہے کہ اسلامی شریعت نے مردوں کو عورتوں سے یا عورتوں کو مردوں سے بات کرنے کی ممانعت نہیں کی ہے۔ ممانعت اس بات کی ہے کہ عورتیں مردوں سے لبھانے والے انداز میں بات کریں۔ مردوں سے بات چیت کرنا منع نہیں ہے بلکہ پیار بھرے لہجے میں اور لبھانے والے انداز میں بات کرنا منع ہے۔ درج ذیل آیت اس ممانعت کی طرف اشارہ کر رہی ہے:
"يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ ۚ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا"
(الاحزاب:32)
''اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ جس کے دل میں کھوٹ ہے کسی لالچ میں پڑجائے اور بھلی بات کرو۔''
اگر محض بات چیت کرنے کی ممانعت ہوتی تو اللہ تعالیٰ کبھی آیت کے آخر میں"وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا"نہ فرماتا جس کے معنی ہیں اور بھلے طریقے سے بات کرو۔ معلوم