فهرس الكتاب

الصفحة 110 من 328

قانون فطرت ہے۔ اس لیے یہ تصور کرنا کہ مرد اور عورت اس طرح علیحدہ علیحدہ زندگی گزاریں کہ ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکیں نا ممکن سی بات ہے۔ یہ چیز اسی وقت ممکن ہے جب انسان قانون فطرت سے بغاوت کرتے ہوئے غیر فطری زندگی گزارنا شروع کردے تمام انسانوں سے رشتہ کاٹ کر پہاڑوں پر بس جائے اور رہبانیت کی زندگی اختیار کر لے۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ رہبانیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ نے اس کی اجازت نہیں دی تھی بلکہ عیسائیوں نے خود ہی اسے ایجاد اور اختیار کیا تھا۔ چنانچہ آج بھی عیسائیوں میں دین دار لوگوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ شادی کریں اور عورتوں سے قربت اختیار کریں۔ لیکن اسلام کا نقطہ نظریہ ہے کہ ان دونوں کا ایک دوسرے سے الگ ہو کر زندگی گزارنا قانون فطرت کے خلاف ہے۔ انسانی زندگی کی عمارت دونوں کے مشترکہ تعاون ہی سے کھڑی ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ" (التوبہ:71)

''مومن مرد اور مومن عورتیں یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔''

اس موقع پر دو باتوں کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں۔ پہلی قابل ذکر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زنا کا عورت کے لیے کوڑوں کی سزا سے قبل جو سزا بتائی تھی وہ یہ تھی کہ زنا کار عورت کو گھر کے اندر اس طرح قید کر دیا جائے کہ وہ مرتے دم تک گھر سے باہر نہ نکل سکے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عورت کا گھر کے اندر قید رہنا اور گھر سے باہر نہ نکل سکنا اس کے لیے سزا ہے اور عام حالات میں معمول کی زندگی میں اسے اس طرح گھر کے اندر قید رکھنا اس پر بڑا ظلم ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر مرد اور عورت کے درمیان ایک دوسرے کے لیے بے پناہ کشش اور جاذبیت رکھی ہے۔ یہ بالکل ایک فطری بات ہے اور اللہ کی فطرت میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو پرہیز گار اور پاکباز

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت