فهرس الكتاب

الصفحة 111 من 328

ثابت کرنے کے چکر میں یہ کہتا ہے کہ عورتوں میں اس کی دلچسپی بالکل نہیں ہے یا عورتیں اس کے لیے بالکل کشش نہیں رکھتی ہیں وہ یقینًا جھوٹا ہے۔ کیوں کہ اس کا یہ دعویٰ قانون فطرت کے خلاف ہے۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں میں آپ کے سوال کے جواب کی طرف آتا ہوں۔

عورت اپنے جسم کے کس کس عضو کو کھلا رکھ سکتی ہے؟ اس سلسلے میں میرا موقف وہی ہے جو علماء کی اکثریت کا ہے۔ عورت اپنا چہرہ ہتھیلی اور پیر غیر محرموں کے سامنے بھی کھلا رکھ سکتی ہے۔ لیکن کیا ان کھلے ہوئے اعضا کو دیکھنا جائز ہے؟

تمام فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ پہلی نظر جائز ہے۔ اگر غلطی سے اور بغیر کسی ارادے کے ان پر نظر پڑ جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔ اور اس بات پر بھی متفق ہیں کہ شہوت اور لذت کی نظر سے انھیں دیکھنا جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ شہوت جذبات کو بھڑکاتی ہے اور گناہ پر اکساتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ:

"النظرة بريد الزنا"

''نظرزنا کی پیغام بر ہوتی ہے۔''

اسی طرح علمائے کرام اس بات پر بھی متفق ہیں کہ ہتھیلی پیراور چہرے کے علاوہ عورت کے دوسرے اعضاء مثلًااس کے بال گردن پیٹھ اور پنڈلی (یہ اعضاء ہیں جنھیں عام طور پر آج کل کی عورتیں کھلا رکھتی ہیں) وغیرہ کی طرف غیر محرم کی لیے دیکھنا جائز نہیں ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے دو اصولی باتوں کا بیان ضروری ہے۔

پہلی بات یہ کہ ہنگامی حالات میں اور شدید ضرورت کے وقت ناجائز بات بھی جائز ہو جاتی ہے۔ مثلًابھوک سے جان جانے کا خطرہ ہے تو سورکا گوشت کھانا جائز ہو جاتا ہے۔ اسی طرح علاج و معالجہ کی خاطر یا ولادت کے موقع پر عورت اپنا ستر ڈاکٹر کے سامنے کھول سکتی ہے یا فسادات اور جنگ کے موقع پر عورت کے لیے پردہ کرنا ممکن نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ بے پردہ رہے دوسری یہ کہ اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو جائز چیز

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت