عہد نبوی میں عورتوں کی زندگی ہر قسم کے افراط و تفریط سے پاک تھی۔ سارے معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی ان کے یہاں اعتدال تھا۔ نہ وہ گھروں میں اس طرح قید تھیں جس طرح بعض نادان قسم کے دین دار لوگ اپنی عورتوں کو رکھتے ہیں اور نہ مغرب کی عورتوں کی طرح سارا وقت گھر سے باہر رہ کر مکمل آزادی کے ساتھ گزارتی تھیں انھیں گھر سے باہر نکلنے کی آزادی تھی لیکن اخلاقی پابندیوں کے ساتھ چنانچہ عہد نبوی میں عورتیں مسجد جاکر مردوں کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم انھیں مسجد آنے کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ ذرا ملاحظہ کیجیے کہ اس زمانے میں مرد پاجامہ نہیں پہنتے تھے بلکہ کھلی ہوئی چادر باندھتے تھے جس کی وجہ سے سجدے کی حالت میں ستر نظر آنے کا اندیشہ رہتا تھا۔ اس کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مسجد آنے سے منع نہیں کیا بلکہ انھیں حکم دیا کہ تم مردوں سے الگ ہو کر صف لگاؤ۔ حتیٰ کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی دیوار بھی نہیں کھڑی کی۔ شروع شروع میں مرد اور عورتیں ایک ہی دروازہ سے مسجد کے اندر جاتے تھے جس کی وجہ سے اکثر دروازے پر بھیڑ ہو جاتی تھی۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے علیحدہ دروازہ بنوایا۔ آج بھی اس دروازے کو باب النساء (عورتوں کا دروازہ) کہتے ہیں۔
پنج وقتہ نمازوں کی طرح جمعہ کے دن بھی عورتیں خطبہ سننے کے لیے مسجد جایا کرتی تھیں عید و بقر عید کے موقع پر بھی عورتیں مسجد جایا کرتی تھیں اور مردوں کے ساتھ عید کی خوشیوں سے لطف اندوز ہوتی تھیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ عید کے دن اپنی عورتوں اور جوان لڑکیوں کو گھروں سے باہر نکالوتاکہ وہ بھی کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
"عن أُمِّ عَطِيَّةَ قالَت: «أَمَرَنَا رسولُ اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ والْأَضْحَى: الْعَوَاتِقَ والْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ، ويَشْهَدْنَ الْخَيْرَ، ودَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، قُلْتُ: يا رسولَ اللّٰه ،"