فهرس الكتاب

الصفحة 123 من 328

إِحْدَانَا لا يكونُ لها جِلْبَابٌ؟ قال: «لِتُلْبِسْهَا أُخْتُها مِنْ جِلْبَابِهَا" (مسلم) "

'' اُم عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عورتوں کو عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں گھروں سے باہر نکالیں۔ نوجوان لڑکیوں کو، حیض والی عورتوں کو اور پردہ نشیں عورتوں کو (بھی ) حیض والی عورتیں نماز سے دور رہیں گی۔ لیکن خوشیوں اور دعاؤں میں شریک ہوں گی۔ میں نے کہا کہ اے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ! کسی عورت کے پاس چادر نہیں ہوتی وہ کیسے نکلنے؟آپ نے فرمایا کہ اس کی کوئی دینی بہن اسے اپنی چادر دے دے۔''

افسوس کی بات ہے کہ آج کے دور میں چند سخت گیر قسم کے علماء نے اس سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو جان بوجھ کر فراموش کر دیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی عورتوں کو گھر سے باہر نکال کر عید و بقر عید کی خوشیوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور یہ علماء حضرات محض وہمی اندیشوں اور فتنوں کا عذر لنگ پیش کر کے عورتوں کو گھر کے اندر بیٹھنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اس طرح عہد نبوی میں عورتیں گھروں سے باہر نکل کر علم حاصل کرنے کے لیے درس و تدریس کی ان مجلسوں میں شریک ہوتی تھیں جہاں مرد حضرات بھی موجود ہوتے تھے۔ حدیہ ہے کہ اس مجلس میں عورتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے سوالات بھی پوچھتی تھیں۔ جنھیں بیان کرنے میں عورتیں عام طور پر شرماتی اور جھجکتی ہیں۔ مثلًا حیض، جنابت اور احتلام کے متعلق سوالات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی ان عورتوں کو تدریسی مجلسوں میں آنے سے منع کیا اور نہ اس قسم کے سوالات ہی سے روکا۔ بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا انصار کی عورتوں کی تعریف کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ شرم و حیانے انھیں کبھی علم حاصل کرنے سے نہیں باز رکھا۔

عہد نبوی میں گھر سے باہر عورتوں کی سر گرمیاں اور دوڑ بھاگ صرف مسجد اور تعلیم گاہ تک محدود نہیں تھی بلکہ جہاد اور جنگ کے موقع پر بھی انھوں نے مختلف ذمےداریاں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت