فهرس الكتاب

الصفحة 124 من 328

نبھائی ہیں۔ مثلًا زخمیوں کو سنبھالنا۔ نرس بن کران کی مرہم پٹی کرنا، انھیں کھانا پانی پیش کرنا اور وقت پڑنے پر دشمنوں پروارکرنا۔ اُم عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

"غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ، فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ، وَأُدَاوِي الْجَرْحَى، وَأَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى" (مسلم)

میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں سات جنگیں لڑی ہیں میں ان کے پیچھے ان کے سازو سامان کی حفاظت کرتی تھی میں ان کے لیے کھانا بناتی زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔

مسلم شریف ہی کی روایت ہے کہ جنگ احد کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت اُم سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنی پیٹھ پر مشکیزہ اٹھائے مجاہدین کو پانی پلانے کاکام انجام دے رہی تھیں۔ احد کے موقع حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنی عمر کے لحاظ سے جوانی کے میدان میں قدم رکھ رہی تھیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اس طرح کی سر گرمیوں میں صرف ادھیڑ اور بوڑھی عمر کی عورتیں ہیں نہیں شریک ہوتی تھیں بلکہ نوجوان لڑکیاں بھی پیش پیش رہتی تھیں جہاد میں عورتوں کی شرکت کے بارے میں متعدد صحیح روایات ہیں اور ان سب کا یہاں بیان ممکن نہیں ہے۔

عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں عورتوں نے صرف اپنے شہر یا شہر سے قریبی علاقے میں رہ کر جہاد میں شرکت نہیں کی بلکہ دور دراز علاقوں میں جاکر بھی جہاد میں شریک ہوئی ہیں۔ بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی اُم حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے دعا کی تھی کہ سمندر میں سفر کر کے جہاد میں جائیں ۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں اُم حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا جہاد کی خاطر قبر ص تشریف لے گئیں وہاں جہاد میں شریک ہوئیں اور وہیں انھوں نے وفات پائی۔

اسی طرح عہد نبوی میں عورتیں سماجی کاموں میں بھی مردوں کے ساتھ مل کر اپنے فرائض انجام دیتی تھیں۔ مثلًا سماج میں برائیوں کو روکنے اور بھلائیوں کو روکنے کو فروغ دینے کا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت