فریضہ جسے اللہ نے مردوں اور عورتوں پر یکساں طور پر فرض کیا ہے۔ اللہ کاارشاد ہے:
"وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ" (التوبہ71)
'' مومن مرد اور مومن عورتیں یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ یہ سب مل کر نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔''
خلفائے راشدین کے عہد میں عورتوں کی سر گرمیاں صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں تھیں اس سلسلے میں صرف ایک مثال دینا کافی ہو گا جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ اسلام کے درخشاں دور میں عورتیں بھی مردوں کی طرح سماج میں ایک فعال کردار ادا کرتی تھیں۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں حضرت شفاء بنت عبد اللہ کو باز ار کا نگران مقرر کیا۔ [1]
قرآن کریم میں جابجا مختلف انبیاء و رسل کے واقعات اور ان کی حیات طیبہ کا ذکر موجود ہے۔ ان میں بعض واقعات عورتوں کے حوالہ سے بھی ہیں۔ ان واقعات کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ ان انبیاء کے زمانے میں عورتوں اور مردوں کے درمیان وہ آہنی پردہ نہیں تھا جسے دور حاضر کے مسلم معاشرہ نے کھینچ رکھا ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام پوری آزادی کے ساتھ گوشہ تنہائی میں بیٹھی مریم علیہا السلام کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور ان گفتگو فرماتے تھے۔ یہ واقعہ سورہ آل عمران میں موجود ہے حضرت سلیمان علیہ السلام سبا کی رانی کو اپنے یہاں دعوت دیتے ہیں اسے اپنے محل کی سیر کراتے ہیں اس سے مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں سبا کی رانی حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمدہ ضیافت اچھے اخلاق اور سیاسی رعب و دبدبہ دیکھ کر اسلام قبول کر لیتی ہے۔ یہ واقعہ