نے دوسروں سے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی تھی جب کہ عورتوں سے محض زبانی طور پر بیعت کی اور ان سے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیعت کے وقت عورتوں سے ہاتھ نہ ملانا اس بات کی واضح دلیل نہیں ہے کہ عورتوں سے مصافحہ کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سارے کام محض اس وجہ سے نہیں کیے کہ یہ کام جائز ہونے کے باوجود ذاتی طور پر آپ کو پسند نہیں تھے۔ مثلًا بجو کھانا آپ کو پسند نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں کھاتے تھے حالانکہ اس کا کھانا حلال ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچی پیاز اور کچا لہسن نہیں کھاتے تھے حالانکہ یہ دونوں چیزیں حلال ہیں۔ محض آپ کا ذاتی عمل تھا اور ہم اس بات کے پابند نہیں ہیں کہ ہم بھی ان چیزوں کو ناپسند کرکے نہ کھائیں ۔ اسی طرح عورتوں سے بیعت کے وقت ہاتھ ملانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند محسوس ہوا اور آپ نے ہاتھ نہیں ملایا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم بھی اس بات کے پابند ہیں کہ ہم اسے ناپسند کریں اور عورتوں سے ہاتھ نہ ملائیں ۔ البتہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول سے بھی اسے منع کرایا ہوتا تو اور بات تھی۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول سے منع نہیں کیا ہے۔
علاوہ ازیں یہ بات بھی تسلیم شدہ اور متفق علیہ نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے موقع پر عورتوں سے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔ چنانچہ حضرت اُم عطیہ انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور بیعت کے موقع پر عورتوں سے ہاتھ ملایا تھا۔ یہ روایت صحیح ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ اور طبری رحمۃ اللہ علیہ میں موجود ہے۔
یہ صحیح ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر عورتوں سے جو بیعت کی تھی اس میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملایا تھا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قسم کھا کر فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیعت کے موقع پر عورتوں سے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔ البتہ اُم عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کسی اور بیعت کے متعلق فرماتی ہیں کہ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے وقت عورتوں سے ہاتھ ملایا تھا۔