بعض علمائے کرام عورتوں سے مصافحہ کرنا جائز قرار دینے کے لیے یہ حدیث بھی بہ طور دلیل پیش کرتے ہیں:
"لَأنْ يُطعَنَ في رأسِ أحدِكم بمِخيَطٍ من حديدٍ خيرٌ لهُ مِنْ أن يَمَسَّ امرأةً لا تَحِلُّ لهُ"
''تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی چبھوئی جائے بہتر ہے اس بات سے کہ وہ کسی ایسی عورت سے مس ہو جائے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔''
یہ حدیث بھی عورتوں سے مصافحہ کو ناجائز قراردینے کے لیے دلیل نہیں بن سکتی کیوں کہ علمائے حدیث نے اس حدیث کو صراحت کے ساتھ صحیح نہیں قرار دیا ہے اور اسی وجہ سے قدیم علماء نے اس حدیث کو کبھی بہ طور دلیل پیش نہیں کیا ہے۔ اگر بالفرض اس حدیث کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو اس حدیث میں جس چیز سے خبردار کیا گیا ہے وہ ہے عورتوں سے مس کرنا اور مس کا مفہوم بدن کے کسی حصہ کا محض چھوجانا نہیں ہے بلکہ قرآن و حدیث میں لفظ مس دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
(الف) جماع اور ہم بستری کے معنی میں، مثلًا سورہ آل عمران کی یہ آیت:
"أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ ۖ" (آل عمران:47)
''مجھے بچہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے حالانکہ کسی مرد نے مجھے مس نہیں کیا ہے (میرے ساتھ ہم بستری نہیں کی ہے) ۔''
ظاہر ہے کہ صرف چھوجانے سے عورت حاملہ نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے اس آیت میں مس سے مراد ہے ہم بستری کرنا، اور اسی طرح قرآن میں جہاں جہاں لفظ مس استعمال ہوا ہے وہاں اس کا یہی مفہوم ہے:
(ب) ہم بستری سے پہلے جوحرکتیں ہوتی ہیں مثلًا بوسہ لینا، گلے لگانا اور جسم سے لگا کربھینچنا وغیرہ قرآن کے الفاظ"أَوْلَامَسْتُمُ النِّسَاءَ"کی تشریح کرتے ہوئے