فهرس الكتاب

الصفحة 139 من 328

مفسرین نے یہی مفہوم اخذ کیا ہے۔

الغرض قرآن و حدیث میں کوئی ایسی واضح اور صریح دلیل نہیں ہے جو جسم کے کسی حصے سے محض چھو جانے کوناجائز قراردے۔ بلکہ اس کے برعکس ایسی دلیلیں پائی جاتی ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ عورت اور مرد کا ہاتھ محض چھوجانا کوئی قابل گرفت عمل نہیں ہے۔ بشرطیکہ یہ شہوت اور جنسی لذت کی خاطر نہ ہو اور نہ اس میں کسی قسم کا فتنہ ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نظر کریں تو معلوم ہو گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ عورتوں کے ہاتھ میں گیا ہے۔ اگر یہ کام ناجائز ہوتا تو یہ عمل حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر گز سر زد نہ ہوتا۔ چنانچہ بخاری شریف کی روایت ہے: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر مدینہ کی ایک لونڈی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیتی تو جہاں لے جاتی ۔ یہی حدیث مسند احمد میں بھی ہے اور اس کے الفاظ یوں ہیں۔ مدینہ کی کوئی لونڈی اگر آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑا تے اور وہ جہاں چاہتی لے جاتی۔

علامہ حافظہ ابن حجر بخاری شریف کی مذکورہ حدیث کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس حدیث سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر حددرجہ تواضع اور انکساری تھی کہ اگر لونڈی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پکڑ کر کہیں لے جانا چاہتی تو آپ تو اضعًا اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑاتے اوراس کے ساتھ چل دیتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لونڈی کے ہاتھ میں ہاتھ دینے سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑکیوں اور عورتوں کا ہاتھ پکڑنا جائز ہے۔ بشرطیکہ یہ شہوت اور جنسی لذت کی خاطر نہ ہو۔ یا اس میں کسی قسم کا فتنہ نہ ہو۔ اگر یہ کام جنسی لذت کی خاطر ہو یا اس عمل میں کسی فتنہ کا اندیشہ ہو تو پھر یہ عمل ناجائز قرارپائے گا۔

مذکورہ حدیث سے بھی زیادہ واضح اور صریح جو کہ بخاری اور مسلم کی حدیث ہے وہ یہ کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ اور عبادہ ابن الصامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی یعنی اُم حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پر قیلولہ فرمایا اور ان کی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت