فهرس الكتاب

الصفحة 185 من 328

ساتھ صرف وہی فرائض خاص ہیں۔ جنھیں اپنی جسمانی ساخت کی وجہ سے صرف عورتیں ہی انجام دے سکتی ہیں مثلًا حیض ونفاس یا حمل اور ولادت سے متعلق فرائض واحکام اور مردوں کے ساتھ صرف وہی فرائض خاص ہیں، جنھیں اپنی جسمانی ساخت کی وجہ سے صرف مرد ہی انجام دے سکتے ہیں، مثلًا نان ونفقہ کی ذمہ داری وغیرہ۔ جو فرائض عورتوں کے ساتھ خاص ہیں اور وہ فرائض جو مردوں کے ساتھ خاص ہیں ان سب کی تفصیل قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ اب کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اوراپنی سمجھ کے مطابق عورتوں یا مردوں کے لیے، کسی فرض کو خاص کردے۔ چونکہ سیاسی حقوق سے متعلق فرائض واحکام قرآن وحدیث میں صرف مردوں کے ساتھ خاص نہیں کیے گئے ہیں، اس لیے ہمارے لیے بھی جائز نہیں ہے کہ ہم ان سیاسی حقوق کو مردوں کےساتھ خاص کرکے عورتوں کو ان سے محروم کردیں۔ اور ہم پہلے ہی عرض کرچکے ہیں کہ کسی چیز کو حرام قراردینے کےلیے قرآن وحدیث کی واضح اورصریح دلیل ضروری ہے۔ عورتوں پر سیاسی حقوق کو حرام قراردینے کے لیے قرآن وحدیث میں کوئی بھی صریح اور واضح دلیل نہیں ہے۔ البتہ چند ضعیف احادیث ہیں لیکن اُن کی بنیاد پر ایک حلال چیز کو حرام نہیں کیا جاسکتا۔ خاص کر ایسے معاملے میں جس کا تعلق پورے معاشرے کے نفع ونقصان سے ہو۔ یہ بڑے ستم کی بات ہوگی کہ ایک ضعیف حدیث پر عمل کرکے پورے مسلم معاشرہ کو نقصان پہنچایا جائے۔ ضعیف حدیث کے علاوہ چند قرآنی آیات اورصحیح حدیثیں ہیں لیکن ان کی تفسیر اور تشریح میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اس لیے مختلف فیہ تفسیر کے ذریعہ کسی شے کو حرام قراردینا کسی صورت مناسب بات نہیں ہے۔

کسی چیز کوحرام وحلال قراردینے کے لیے قرآن وحدیث کی واضح اور صریح دلیل کے علاوہ ایک اور چیز کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہے زمانے کے حالات اور ماحول کی رعایت۔ چنانچہ فقہاء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ زمانے کے بدلنے، حالات کے مختلف ہونے اور ماحول کے بدلنے سے فتوے بھی بدل جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے کا زمانہ آج کی اکیسویں صدی سے بالکل مختلف تھا۔ دونوں زمانےکے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت