حالات مختلف ہیں۔ اسی طرح مسلم ملک کا جو ماحول ہوتا ہے کسی کافر ملک کے ماحول سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ حالات کی ان تبدیلیوں سے فتوے بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس بات پر خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی عمل رہا ہے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے آغاز میں ماحول اور ضروریات کے لحاظ سے ایک حکم دیا اور جب ہجرت کے بعداسلام طاقت ورہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے حکم سے بالکل مختلف حکم صادر فرمایا۔ یہی رویہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اسلامی شریعت اسی وجہ سے سب سے عمدہ اور بہترین شریعت ہے کہ اس میں اس بات کی گنجائش ہے کہ زمانہ اور ماحول کے لحاظ سے احکام تبدیل ہوسکیں۔
ایک اور بات ذہن میں رکھنی چاہیے۔ وہ یہ کہ دورحاضر کے سیکولر حضرات عورتوں کے مسائل میں خصوصی دلچسپی اور جوش وولولہ دکھانے لگے ہیں۔ انھیں ذرا بھی عورتوں کی حق تلفی کا علم ہوتا ہے تو اپنے سارے ہتھیار لے کر میدان میں کود پڑتے ہیں اور حق تلفی کرنے والوں کے خلاف برسرپیکار ہوجاتےہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلم امت نے اپنی عورتوں کے ساتھ بڑی زیادتیاں اور حق تلفیاں کی ہیں۔ انھیں مختلف فتنوں کے ڈرسے تعلیم میں پیچھے رکھا۔ انھیں گھر کے اندر قید کردیا اور ان پر بے جا پابندیاں عائد کردیں۔ جب یہ سیکولر حضرات مسلم عورتوں کی یہ زبوں حالی اور پسماندگی دیکھتے ہیں توا نھیں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زہراگلنے کا بڑا اچھا موقع ہاتھ آجاتا ہے۔ اور یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اسلام عورتوں کا دشمن ہے، اور جو رویہ ہم اپنی عورتوں کےساتھ اختیار کرتے ہیں اسے دیکھ کر دنیا والے بھی فورًا یقین کرلیتے ہیں کہ واقعی اس لیے میں اپنی اُمت کے عالموں اور دانشوروں سے گزارش کروں گا کہ وہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیں۔ جو غلطیاں پہلے ہوچکی ہیں ان کی تلافی کریں۔ بہت سارے ایسے میدان ہیں جن کے بارے میں قرآن وحدیث کا صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے ہم اپنی عورتوں کو ان سے دوررکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں ایک سیاست کا میدان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس سلسلے میں قرآن وسنت کا صحیح حکم معلوم کریں تاکہ دوبارہ ایسی غلطی نہ ہو،