فهرس الكتاب

الصفحة 187 من 328

جس سے ہماری امت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے اور ہم سوائے پچھتانے کے اور کچھ نہ کرسکیں۔

آپ یقین کریں کہ قرآن اور صحیح حدیثوں میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جوعورتوں کو سیاسی حقوق استعمال کرنے اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکتی ہو۔ آج کا جو سیاسی سسٹم ہے اس میں عورتیں ووٹ دینے کا حق استعمال کرسکتی ہیں، پارلیمنٹ، اسمبلی اور شوریٰ کی ممبر بن سکتی ہیں [1] اور حکومت کو سیاسی مشورے دے سکتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ عام طور پر مسلمانوں کا ذہن میری اس رائے کو قبول نہیں کرے گا کیونکہ عورت کا سیاست میں حصہ لینا ان کے نزدیک گناہ عظیم ہے۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ کسی بھی معاملے کو حرام اور گناہ قراردینے کے لیے قرآن وحدیث کی واضح اور صریح دلیل ضروری ہے۔ محض اس وجہ سے کوئی چیز حرام نہیں ہوسکتی کہ ہمارا ذہن اسے قبول نہیں کررہا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے علماء عورتوں کو سیاسی حقوق سے محروم کرنے کے لیے کون سے دلائل پیش کرتے ہیں اور کیا واقعی یہ دلائل قابل قبول ہیں؟

1۔ ان کی پہلی دلیل قرآن کا یہ حکم ہے:

"وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ"

''اور اپنے گھروں ہی میں رہا کرو۔''

اس آیت کی روشنی میں عورتوں کا بلاوجہ گھر سے باہرنکلنا جائز نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں کو سیاسی حقوق سے محروم کرنے کے لیے یہ دلیل ناقابلِ قبول ہے اس لیے کہ:

(الف) ۔ سیاق وسباق سے واضح ہے کہ اس حکم کی مخاطب عام عورتیں نہیں بلکہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔ اسی سیاق وسباق کی ابتدا میں اللہ ان سے فرماتا ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت