کہ:"يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ ۚ"
''اے نبی کی بیویو!تم کسی عام عورت کی طرح نہیں ہو۔''
اور ظاہر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو جو رتبہ ومنزلت حاصل ہے اس کالازمی تقاضا ہے کہ ان کا رہن سہن عام عورتوں کی طرح نہ ہو۔ اسی بنا پر انھیں حکم دیا گیا کہ ان کا زیادہ وقت گھروں میں گزرے۔
(ب) ۔ اس حکم کے باوجود حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنگ جمل کے موقع پر گھر سے باہر بلکہ مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے گئیں اور انھوں نے پوری فوج کی قیادت کی۔ معلوم ہوا کہ دینی واجبات کی ادائی کی خاطر گھر سے باہرنکلنا بھی ایک دینی فریضہ ہے۔
(ج) ۔ اس حکم کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ عورتیں گھرکے اندر مقید رہتی ہیں۔ علماء نے انھیں مختلف ضروریات کی تکمیل کے لیے گھر سے باہرنکلنے کی اجازت دی ہے۔ اور عورتیں ان ضروریات کی تکمیل کے لیے نکلتی ہیں۔ پھر آخر سیاسی واجبات کی ادائیگی کے لیے انھیں گھر سے نکلنے سے کیوں محروم کیا جارہا ہے۔
(د) ۔ گھر کے اندر ہی رہنا اور گھر سے باہر قدم نہ نکالنا تو ایک سزاہے جسے اللہ تعالیٰ نے زنا کارعورت کے لیے تجویز کیا تھا۔ جیسا کہ ہم اس سے پہلے سورہ نساء کے حوالے سے عرض کرچکے ہیں۔ اگر ہم نےتمام عورتوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت سے محروم کردیا توگویا ہم انہیں زنا کارعورت کی سزا دےرہے ہیں۔
(ہ) ۔ صورت حال یہ ہے کہ سیاسی میدان سے دین دار قسم کی عورتیں غائب ہوچکی ہیں اور ان کی جگہ وہ عورتیں اس میدان میں ہیں جنھیں اسلام اور مسلمانوں کی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ظاہر ہے اس قسم کی دنیادار عورتیں پارلیمنٹ میں جاکر اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے لیے کوئی کام نہیں کرسکتیں بلکہ اس کے برعکس وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ کیا اب ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ پارلیمنٹ میں ہماری دین دار اور پرہیزگار قسم کی عورتیں بھی ہونی چاہییں تاکہ وہ ایک طرف مسلم عورتوں کے مسائل کو اسلام کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرسکیں اور دوسری