طرف پوری مسلم امت کے مفاد میں کام کرسکیں۔ ذرا غور کیجئے کہ ایک مسلم عورت اپنی ذاتی ضروریات کی تکمیل کے لیے گھر سے باہر نکل سکتی ہے، بازار جاسکتی ہے اور سفر کرسکتی ہے تو پوری مسلم قوم کے مفاد کے لیے گھر سے باہر کیوں نہیں نکل سکتی؟
2۔ بعض لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ سیاسی سرگرمیوں میں مسلم عورتوں کی شرکت کی وجہ سے مختلف فتنے جنم لے سکتے ہیں۔ مثلًا بے پردگی، مردوں سے اختلاط اور کبھی مردوں کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا وغیرہ۔ چونکہ یہ چیزیں حرام ہیں اس لیے سیاسی سرگرمیاں بھی حرام ہیں۔
یہ دلیل بھی کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ یہ تو محض اندیشے اور حددرجہ احتیاط والی بات ہوئی اور تجربات نے ثابت کردیا ہے کہ اندیشوں اور حددرجہ احتیاط کے چکر میں پڑ کرمسلم امت نے اپنا بڑا نقصان کیا ہے۔ اس طرح کےاندیشے فتنوں کو دبانے کے بجائے انھیں اُبھارتے ہیں۔
اگر ہم اپنی عورتوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیں گے تو مسلمانوں کا بہت سارا قیمتی ووٹ ضائع ہوجائےگا۔ جواگر استعمال ہوتا تو شاید پارلیمنٹ میں کوئی اچھا مسلمان منتخب ہوکرجاتا اور مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا۔ اسی طرح اگر ہم اپنی عورتوں کو الیکشن لڑنے اور پارلیمنٹ کی ممبر بننے سے روک دیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں وہ عورتیں جائیں گی جنھیں دین اور مذہب سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور وہ عورتوں کے لیے ایسے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کریں گی، جو اسلام کے خلاف ہیں۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ پارلیمنٹ میں ہمارے مرداورہماری عورتیں جائیں تاکہ وہ ہمارے مفاد کے لیے کام کرسکیں۔
جہاں تک فتنوں، بے پردگی اورمردوں کے ساتھ اختلاط کی بات ہے تو میں بھی ان کے حق میں نہیں ہوں لیکن ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ پردے میں رہ کراوردوسرے اسلامی آداب کا خیال رکھتے ہوئے ہماری عورتیں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ خصوصًا وہ