عورتیں جو پختہ عمر کو پہنچ چکی ہیں اور بچوں کی تعلیم وتربیت سے فارغ ہوچکی ہیں اور پڑھی لکھی ہونے کے باوجود گھروں میں خالی بیٹھ کر اپناقیمتی وقت برباد کررہی ہیں۔ یہ عورتیں اگر مسلمانوں کےمفاد کے لیے سیاست کے میدان میں آتی ہیں تو اس سے ایک طرف یہ فائدہ ہوگا کہ ہماری عورتوں کے مسائل اسلامی قوانین کی روشنی میں حل کیے جاسکیں گے اور دوسری طرف یہ فائدہ ہوگا کہ اس طرح ہماری عورتوں کا امیج (Image) بہتر ہوگا جو کہ فی الحال کافی خراب ہے۔
3۔ ان کی تیسری دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے:
"لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمْ امْرَأَةً"
''وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جس نے عورت کو اپنا حکمراں بنایا۔''
اس حدیث میں یہ خبر دی گئی ہے کہ عورت کو حکمران بنانے والی قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس لیے عورتوں کو کسی قسم کا سیاسی منصب عطا کرناجائزنہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر قوامیت عطا کی ہے نہ کہ عورتوں کو مردوں پر۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے:
"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ" (النساء:34)
''مرد نگہبان ہیں عورتوں پر اس لیے اللہ نے بعض کوبعض پر فضیلت بخشی ہے اور اس لیے کہ یہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں (یعنی نان ونفقہ کی ذمے داری مردوں پر ہے) ۔''
عورتوں کو کسی قسم کا سیاسی منصب عطا کرنے کا مطلب ہے کہ انھیں مردوں پر قوامیت عطا ہوگئی اور یہ بات اللہ کی منشا کے خلاف ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں کو سیاسی حقوق سےمحروم کرنے کے لیے مذکورہ حدیث اور مذکورہ آیت کو بطور دلیل پیش کرنا سراسرغلط ہے۔ کیونکہ ان دونوں آیات میں عورتوں کو سیاسی حقوق سے محروم کرنے کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔