مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کی جس قوامیت کا تذکرہ کیا ہے وہ محض خانگی زندگی تک محدود ہے۔ مرد صرف اپنی فیملی اورگھر کی حدود میں نگہبان کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک عورت گھر کی نگہبان نہیں ہوسکتی اور اس کیوجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی کہ مرد ہی پر نان ونفقہ کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ نان ونفقہ کی ذمے داری والی بات صرف گھر ہی تک محدود ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کی جس قوامیت کا اللہ نے ذکر کیا ہے، وہ صرف گھر تک محدود ہے۔ مرد اپنے گھر کے حدود میں قوام ہوتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مرداپنی قوامیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی من مانی کرتا پھرے۔ کیونکہ قرآن کی دوسری آیتوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے ثابت ہے کہ اس قوامیت کےباجود شوہر کوگھریلو معاملات میں اپنی بیوی سے مشورے کی تائید کی گئی ہے۔ اس لیے اس آیت سے یہ ثابت کرنابالکل غلط ہے کہ عورتوں کو سیاسی منصب عطا کرنا جائز نہیں ہے۔
رہی وہ حدیث جس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ عورتوں کو حکمران بنانے والی قوم کامیاب نہیں ہوسکتی تو اس میں جس چیز سے خبردار کیا گیا ہے وہ ہے عورتوں کی ولایت۔ ایسی حکمرانی جس میں حکمران تمام سیاہ وسپید کا مالک ہوتا ہے اور جسے ہم مطلق العنان حکمران کہتے ہیں۔
حدیث کا سیاق وسباق یہ ہے کہ کسریٰ کی موت کے بعد اہل فارس نے اس کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا لیا تھا۔ اہل فارس کے کسریٰ کس قسم کے مطلق العنان حکمران ہوا کرتے تھے، سبھی جانتے ہیں۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوقوم اس طرح کی مطلق العنانی عورتوں کو سونپے گی وہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔
آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ دورحاضر میں جب کہ جمہوریت کا دوردورہ ہے کوئی صدر یا وزیر اعظم یاکسی قسم کاسیاسی اہلکار نہ مطلق العنان ہوتا ہے اور نہ ہی ملک کا سیاہ وسپید اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ صدر ہویا وزیر اعظم حکومت چلانے کے لیے یہ سب اپنے وزراء اور عوام سے باہمی مشورے کرتے ہیں۔ حکومت پر فائز لوگوں کو ہرآن مخالف