فهرس الكتاب

الصفحة 192 من 328

سیاسی پارٹی کی مخالفت کا سامنا ہوتا ہے۔ یعنی دور حاضر میں بڑے سے بڑا سیاسی منصب مطلق العنانیت نہیں عطا کرتا ہے۔ اس لیے اس حدیث کی بنیاد پر عورتوں کو سیاسی حقوق سے محروم کردینا صحیح نہیں ہے۔

علاوہ ازیں بعض علمائےکرام اس حدیث کو صرف کسریٰ کی بیٹی کے ساتھ خاص مانتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات صرف اہل فارس اور کسریٰ کی بیٹی کے سلسلے میں فرمائی ہے۔ یہ کوئی عمومی بات نہیں ہے کہ جب جب عورتیں حکمران بنیں گی۔ تب تب قوم تباہ وبرباد ہوگی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں بے شمار ایسی حکمران عورتوں کے واقعات درج ہیں۔ جنھوں نے مردوں سے زیادہ حسن وخوبی سے حکومت کی اور اپنی قوم کو فلاح وبہبود سےہمکنار کیا۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری حکمران عورتوں کے لیے یہ بات کہی ہوتی تو تاریخ میں اس طرح کی کامیاب حکمران عورتوں کے واقعات درج نہیں ہوتے۔ قرآن نے بھی ایک ایسی حکمران عورت یعنی ملکہ سبابلقیس کا واقعہ تعریف و توصیف میں بیان کیا ہے۔ ملکہ سبا بلقیس نے کمال حکمت ودانائی کے ساتھ حکومت کی اور سلیمان علیہ السلام کےساتھ دانشورانہ معاملہ کیا حتیٰ کہ اس نے اسلام قبول کرلیا اور اپنی قوم کو تباہی وبربادی سے بچالیا۔ یہ حکمراں عورت اپنی قوم کے لیے باعث تباہی نہیں بلکہ باعث فلاح ثابت ہوئی۔

ان دلیلوں کے علاوہ کچھ عقلی دلیلیں بھی پیش کی جاتی ہیں۔ مثلًا یہ کہ عورتوں کے اندر جذباتیت زیادہ ہوتی ہے اس لیے وہ کسی اہم سیاسی منصب کے لیے موزوں نہیں ہوسکتیں۔ عورتیں صرف انھی کاموں کے لیے موزوں ہیں جو عورتوں سے متعلق ہیں مثلًا بچے پیدا کرنا، ان کی پرورش کرنا اور امورخانہ داری سنبھالنا وغیرہ۔ اس طرح کے دلائل پیش کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ ایسی جذباتیت صرف عورتوں میں نہیں بلکہ بہت سارے مردوں میں بھی ہوتی ہے۔ مرد بھی جذباتی ہوتے ہیں اور جذباتی انداز میں فیصلے کرتے ہیں اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت