فهرس الكتاب

الصفحة 21 من 328

گھڑت ہے۔ اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح حدیث کی سند پر بحث و تحقیق ضروری ہے اسی طرح حدیث کے متن اور مضمون پر بھی تحقیق ضروری ہے تاکہ وہ حدیث جسے عقل سلیم قبول نہ کرے یا قرآن و سنت کی اصولی باتوں سے ٹکراتی ہو اسے ضعیف قراردیا جا سکے۔ تاہم عقل کی بنیاد پر مضمون کو قبول یا رد کرنے کی عظیم الشان ذمے داری صرف ماہر علمائے حدیث ہی انجام دے سکتے ہیں۔ یہ کسی صورت میں مناسب نہیں ہے کہ ہر شخص کسی بھی حدیث میں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے اور اس کی عقل اس حدیث کو قبول نہ کرتی ہو تو اسے ماننے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ بسااوقات بعض حضرات اپنی ناقص عقل کی بنیاد پر کسی صحیح اور معتبر حدیث کو ضعیف قراردینے میں نہایت جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن تحقیق کے بعد پتا چلتا ہے کہ ان حضرات کی اپنی عقل ہی ناقص ہے ورنہ حدیث میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے عقل سلیم قبول نہ کرسکے۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ حدیث میں کسی ایسی بات کا تذکرہ ہوتا ہے جس کا وقوع پذیر ہونا بہ ظاہر نا ممکن اور محال نظر آتا ہے اور اس بناء پر بعض ناقص العقل حضرات اس حدیث کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ جس بات کو ناممکن اور محال سمجھ رہے ہوتے ہیں عقلًا وہ چیز نا ممکن اور محال نہیں ہوتی ۔

بعض لوگ کسی صحیح اور معتبر حدیث کو اس لیے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں کہ یہ کسی ثابت شدہ سائنسی حقیقت کے خلاف ہے۔ حالانکہ وہ جس سائنسی حقیقت کو ثابت شدہ اور مسلم سمجھ رہے ہوتے ہیں کچھ سالوں کے بعد پتاچلتا ہے کہ حقیقت یہ نہیں بلکہ اس کے برعکس ہے۔ [1]

جیسا کہ ڈارون کے نظریے کو پہلے ایک سائنسی حقیقت حاصل تھی۔ بعد میں خود سائنس دانوں نے اسے ٹھکرادیا۔ بعض لوگ کسی صحیح اور معتبر حدیث کو اس بنا پر رد کردیتے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت