ہیں کہ حدیث کسی قرآنی آیت یا کسی اور صحیح حدیث کے خلاف ہے۔ حالانکہ غور کیا جائے تو ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ سارا قصور ان حضرات کےاپنے ناقص فہم کا ہوتا ہے۔
علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا گیا کہ متن اور مضمون کی بنیاد پر کیا کسی حدیث کو ضعیف قراردیا جا سکتا ہے؟ کیا اس کے کچھ اصول و قواعد ہیں؟ آپ نے فرمایا یہ ایک عظیم سوال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ متن کی بنیاد پر کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف قراردینے کا حق دار صرف وہی عالم حدیث ہے جس کے گوشت پوست میں حدیث کا ادراک رچ بس گیا ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور ان کی تعلیمات پر اس کی گہری نظر ہو اور سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند و ناپسند اور ان رجحانات و میلانات کا ایسا شعور ہو کہ وہ کسی حدیث کو محض سن کر یہ فیصلہ کردے کہ یہ بات اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے صادر ہو سکتی ہے یا نہیں ۔ اس کے بعد علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے چند ضعیف احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عالم حدیث ان احادیث کے مضمون کو پڑھ کر بہ خوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ احادیث من گھڑت ہیں۔ مثلًا یہ حدیث کہ جس نے سبحان اللہ و بحمد اللہ کہا اللہ اس کے لیے جنت میں کھجور کے ایسے کروڑوں درخت لگائے گا جن کی جڑیں سونے کی ہوں گی ۔ اس طرح کی من گھڑت حدیثوں کو بیان کرنے کے بعد علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے ضعیف اور موضوع احادیث کو سمجھنے کے لیے چند اصول اور ضوابط بنائے ہیں وہ یہ ہیں۔
1۔ حدیث کا ایسی مبالغہ آرائیوں پر مشتمل ہونا جن کا تذکرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک کو زیب نہیں دیتا ۔ اور اس طرح کی حدیثیں بے شمار ہیں مثلًا یہ حدیث کہ جس نے لاالٰہ الا اللہ کہا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کلمہ طیبہ کے عوض ایک ایسا پرندہ تخلیق کرے گا جس کی ستر ہزار زبانیں ہوں گی۔ ہر زبان کی ستر ہزار بولیاں ہوں گی جو اس بندے کے لیے دعائے مغفرت کریں گی۔ اور جس نے فلاں فلاں کام کیے اسے جنت میں ستر ہزار شہر دئیے جائیں گے۔ ہر شہر میں ستر ہزار محل ہوں