دے سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ زیادہ نفع لے۔
کچھ سامان تجارت ایسے ہوتے ہیں جن کا شمار ضروری اور بنیادی اشیاء صرف (Essential) (Goods اور کچھ سامان تجارت ایسے ہوتے ہیں جن کاشمار سامان تعیش(Luxury Goods) میں ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں قسم کے سامان تجارت میں منافع کی شرح ایک جیسی نہیں ہوسکتی۔ بنیادی اشیاء غریب لوگ بھی خریدتے ہیں اس لیے ان میں منافع کی شرح بہت کم ہونی چاہیے۔ جب کہ سامان تعیش میں منافع کی شرح زیادہ بھی کی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے ضروری اور بنیادی اشیاء صرف مثلًا غلہ وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی کوحرام قراردیا ہے کیونکہ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ان میں بہت زیادہ نفع حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو غریبوں کے لیے تباہ کن ہے۔
بعض سامان تجارت ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک واسطے (Mediator) کے بعد بازار میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس لیے ان میں منافع کی شرح کم ہوتی ہے۔ جب کہ بعض سامان تجارت فیکٹری سے نکل کر کئی واسطوں سے ہوتے ہوئے بازار میں آتے ہیں۔ اس قسم کے سامان تجارت میں پہلے سامان کے مقابلے میں منافع کی شرح زیادہ ہونی چاہیے۔
غرض کہ منافع کی شرح متعین کرنے میں بہت سارے عوامل کارفرما ہوتے ہیں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ عدل وانصاف کا تقاضا ہے کہ منافع کی شرح متعین کرتے وقت ان سب عوامل کی رعایت کی جائے اگر شریعت نے تمام حالات اور تمام طرح کے سامان تجارت میں منافع کی ایک ہی شرح متعین کردی ہوتی تو یہ بات عدل وانصاف کے منافی ہوتی۔ شریعت نے تاجر کے ضمیر پر یہ بات چھوڑ دی ہے کہ وہ ان سب عوامل کی رعایت کرتے ہوئے اور معاشرہ میں مروجہ اصول کو دیکھتے ہوئے منافع کی کوئی شرح متعین کرلے۔ وہ ایسی شرح متعین کرے جس سے نہ اسے نقصان ہو اور نہ