فهرس الكتاب

الصفحة 211 من 328

خریداروں کو۔ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ کیونکہ اسلامی معاشیات میں اخلاقیات کا بڑا عمل دخل ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے بالکل برعکس کہ جس میں دولت کمانے کی خاطر یہ طریقہ کار جائز ہے چاہے یہ دولت سود سے آتی ہو یا ذخیرہ اندوزی کے ذریعہ یا شراب اور دوسری مضر اشیاء فروخت کرکے۔ اسلامی معاشیات میں ہر وہ طریقہ تجارت حرام ہے جس میں کسی کی حق تلفی ہوتی ہو یا جو اخلاقیات کے منافی ہو۔ اسلام نے اگرچہ منافع کی کوئی شرح متعین نہیں کی ہے لیکن اخلاقیات کی پابندی ہرحالت میں ضروری ہے۔

بعض حنفی علماء نے سویا اس سے زائد فیصد منافع حاصل کرنے کو غلط قراردیا ہے۔ جب کہ بعض مالکی علماء نے تیس پینتیس فیصد سے زیادہ نفع کو غلط قراردیا ہے۔ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے ثابت ہے کہ انھوں نے کبھی سو فیصد اور کبھی اس سے بھی زیادہ نفع لیا ہے۔ ان لوگوں کا عمل اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ بعض صورتوں میں سویا اس سے زیادہ فیصد نفع لیا جاسکتا ہے بشرطیکہ کسی پر ظلم نہ ہورہا ہو یا کسی کی حق تلفی نہ ہورہی ہو۔ میں چند ایسے واقعات پیش کررہا ہوں جن میں سو فیصد یا اس سے بھی زیادہ نفع لینے کا تذکرہ موجود ہے۔

1۔ بخاری، ترمذی اور مسند احمد وغیرہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک بکری خرید لیں۔ عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بکری والے سے مول تول کیا اور ایک دینار میں دو بکریاں خرید لیں۔ وہ دونوں بکریاں لے کر آرہے تھے کہ راستے میں انھیں ایک شخص مل گیا اس نے دونوں بکریوں میں سے ایک بکری ایک دینار کے عوض خرید لی۔ (گویاحضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سو فیصد نفع لے کر بکری فروخت کی) پھرعروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ یہ لیجئے ایک بکری اور ساتھ میں ایک دینار۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے دریافت کیا کہ عروہ تم نے یہ کیسے کیا؟عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بیان کردیا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی تجارت میں برکت کی دعادی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت