2۔ سو فیصد سے زیادہ نفع لینے کا واقعہ بخاری شریف میں ذرا تفصیل کے ساتھ درج ہے۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن العوام جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور جنھیں دنیا ہی میں جنت کی خوش خبری دے دی گئی تھی۔ انھوں نے مدینہ کےمضافات میں ایک زمین ایک لاکھ ستر ہزار درہم میں خریدی۔ ان کی شہادت کے بعد ان کاقرض چکانے کے لیے ان کے بیٹے حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہی زمین سولہ لاکھ درہم میں فروخت کی۔ گویا کئی سوگنانفع حاصل کیا۔ یہ واقعہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت کا ہے۔ زمین فروخت کرنے والے حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اور زمین خریدنے والے متعدد جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے مثلًا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ۔ اور یہ سودا بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں طے پایا۔ اگر اس طرح کوئی سو فیصد نفع لینا شریعت کی نظر میں غلط ہوتو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ضرور اعتراض کرتے لیکن کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا۔ اس لیے یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ سو فیصد سے زیادہ نفع بھی لیاجاسکتا ہے بشرطیکہ اس میں کوئی غبن دھوکا اورذخیرہ اندوزی نہ ہو۔
ان واقعات کوبیان کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہر طرح کی تجارت میں سویا اس سے زیادہ فیصد نفع لیناجائز ہے۔ ان کے بیان کامقصد صرف یہ ہے کہ شریعت نے نفع کی کوئی شرح مقرر نہیں کی ہے۔ بعض صورتوں میں نفع کی شرح سو فیصد یا اس سے زائد بھی ہوسکتی ہے اور شرعًا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ بشرطیکہ غبن، دھوکا اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے یہ نفع نہ حاصل کیا جائے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اُن منافعوں کا بھی تذکرہ کردوں جن کا حاصل کرنا حرام ہے:
1۔ حرام اشیاء مثلًا شراب، نشیلی دواؤں اور مورتیوں وغیرہ کی تجارت سے حاصل کیا گیا نفع حرام ہے۔ اسی طرح ہر اس چیز کی تجارت سے حاصل کیا ہوا نفع حرام ہے جو