میں اپنی بیویوں کے ساتھ کھیل تماشے کرتے تھے، ہنسی مذاق کی باتیں کرتے تھے۔ اپنی بیویوں سے کہانیاں سنتے تھے۔ بخاری شریف ہی کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ مل کر دوڑ لگاتے تھے۔ اس دوڑ میں کبھی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جیت جاتیں اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیت جاتے۔ کون نہیں جانتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیٹھ پر اپنے نواسوں (حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو سوار کیاکرتے تھے اور ان کے ساتھ کھیلتے تھے۔ اور ان بچوں کی باتیں بڑے شوق سے سنتے تھے۔ کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر بچوں کو سوار دیکھ کر کہا کہ یہ تو بہترین سواری ہے۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ شہسوار بھی تو بہترین ہیں۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ مذاق بھی کیا کرتے تھے۔ بڑا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بڑھیا نےحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ دعا کریں کہ میں جنت میں چلی جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنت میں بوڑھی عورتیں نہیں جائیں گی۔ یہ جواب سن کر وہ بڑھیارونے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ بڑی بی! جنت میں کوئی بوڑھا نہیں ہوگا۔ بوڑھا شخص بھی جنت میں جوان ہوکر داخل ہوگا۔
ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اونٹ کی سواری عطا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا۔ اس شخص نے حیرت سے پوچھا کہ اونٹنی کابچہ سواری کے قابل کیسے ہوسکتاہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے جواب دیاکہ اونٹ بھی توآخر کسی اونٹنی کا بچہ ہوتا ہے۔ (ترمذی)
حضرت زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ام ایمن نام کی ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میرے شوہر آپ کو بلارہے ہیں۔ آپ نے سوال کیا کہ تمہارا شوہر کون ہے، وہی نا جس کی آنکھوں میں سفیدی ہے (آنکھوں میں سفیدی ہونا بے شرم ہونے کے لیے محاورہ استعمال کیا جاتا ہے) اس عورت نے سمجھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے شوہر کو بے شرم کہہ رہے ہیں۔ کہنے لگی کہ بخدا میرے شوہر کی آنکھوں میں سفیدی