فهرس الكتاب

الصفحة 220 من 328

نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ سفیدی تو ہرآنکھ میں ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کامقصد اس سفیدی سے تھا جو سیاہ دائرے کے اردگرد ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور سودۃ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہمارے گھر میں موجودتھے۔ میں نے ان کے لیے حریرہ (دودھ اورآٹا میں بنا ہواکھانا) تیار کیا۔ پھر میں نے اسے سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا۔ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ مجھے حریرہ پسند نہیں ہے ۔ میں نے سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ کھاؤ ورنہ تمہارے چہرے پر حریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مل دوں گا۔ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پھر بھی کھانے سے انکار کیا تو میں نے ان کے چہرے پر حریرہ مل دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم دونوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا سا جھک گئے تاکہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی میرے چہرے پر حریرہ مل سکیں۔ چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حریرہ لیا اور میرے چہرے پر مل دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تماشہ دیکھ کر ہنستے رہے۔ [1]

کوئی اور ہوتا تو ان کی حرکت پر ڈانٹتا اور سرزنش کرتا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس چھیڑ چھاڑ سے نہیں روکا بلکہ یہ دیکھ کرخود ہی محظوظ ہوتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی زندگی میں خوشیوں کا رنگ بھرنا چاہتے تھے۔ خاص کرعید بقر عید اور دوسرے خوشی کے مواقع پر۔ مشہور واقعہ ہے کہ عید کے موقع پر کچھ لڑکیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گانا بجانا کررہی تھیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ دیکھ کر برہم ہوئے اور انھیں گانے بجانے سے روکنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر انھیں گانے، بجانے دو۔ یہ تو عید کا دن ہے۔ ذرا یہودی بھی جان لیں کہ ہمارے دین میں بھی وسعت اور تفریح کے مواقع ہیں۔

کسی موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض حبشیوں کو مسجد نبوی کے اندر کھیل تماشہ دکھانے کی اجازت دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی یہ کھیل تماشہ دیکھتے رہے۔ انھیں جوش دلاتے رہے اور اپنی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے کاندھے پر ا ٹھا کر یہ تماشہ دکھاتے رہے۔ وہ لوگ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت