مسجد نبوی میں کھیل تماشہ دکھاتے رہے، رقص کرتے رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی مضائقہ نہیں محسوس کیا۔
روایت ہے کہ کسی لڑکی کی رخصتی ہورہی تھی۔ رخصتی کے موقع پر کسی کھیل تماشہ اور گانے بجانے کا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ [1]
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سخت ناپسند ہوئی اور فرمایاکہ:
"هلا كان معها لهو؟"
''اس کے ساتھ کھیل تماشے کا انتظام کیوں نہیں ہے۔''
بعض روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تم لوگوں نے اس خوشی کے موقع پر گانے والیوں کو کیوں نہیں بھیجا جو یہ گاتیں:
"أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ"
''ہم تمہارے پاس آگئے، آگئے، تم ہمیں خوش آمدید کہو، ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔''
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں نشوونما پانے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ایسے ہی تھے۔ ہنستے ہنساتے اور مذاق کرتے تھے۔ حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا سخت مزاج انسان بھی ہنسی مذاق کیا کرتاتھا۔ روایت ہے کہ انھوں نے ازراہِ مذاق اپنی لونڈی سے کہا کہ مجھے شریفوں کے خالق نے پیداکیا ہے اور تمہیں بدمعاشوں کے خالق نے پیدا کیاہے۔ اس بات پر وہ لونڈی کبیدہ خاطر ہوگئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ شریفوں اور بدمعاشوں کا خالق الگ الگ تھوڑے ہی ہے۔ ان سب کو تو ایک ہی اللہ نے پیداکیاہے۔ مجھے اور تمہیں دونوں کو اللہ نے ہی پیداکیاہے۔
مشہور تابعی ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مذاق کیا کرتے تھے؟آپ نے جواب دیا کہ وہ بھی تو انسان ہی تھے۔
حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہم جب آپ